He must at once jump into the 5th gear.
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۴۰
میں نے سوچا کہ 1971ء میں اگر کوئی شخص یہ کہتا کہ بنگلہ دیش کو آزاد کرانے کی تحریک ختم کر دو اور پاکستان کی "ماحتی" میں رہ کر اپنی تعمیر و ترقی کا کام کرو تو سارے بنگلہ دیش میں کوئی ایسے شخص کا ساتھ نہ دیتا۔ اس کے برعکس شیخ مجیب الرحمن کی آزاد بنگلہ دیش کی تحریک کا ساتھ دینے کے لیے تمام بنگالی مسلمان امڈ پڑے۔ حالاں کہ بالآخر اس کا جو انجام ہونا تھا وہ صرف یہ کہ شیخ مجیب الرحمن کو خود بنگالی مسلمان مار ڈالیں اور بنگلہ دیش دنیا کا سب سے زیادہ پست اور کمزور ملک بن کر رہ جائے۔
جذباتی رہنمائی اور حقیقت پسندانہ رہنمائی میں کتنا زیادہ فرق ہے۔ مگر مسلمان ہر ملک میں، ایک یا دوسری صورت میں جذباتی رہنماؤں کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ بربادی اور ہلاکت کی صورت میں بار بار اس کے نتیجہ کا سامنے آنا بھی انھیں جذباتی رہنماؤں کے پیچھے دوڑنے سے روکنے والا نہ بن سکا۔
4 نومبر کی دوپہر کو کراچی پہنچا۔ ظہر کی نماز یہاں ایرپورٹ کی مسجد میں پڑھی۔ "ایرپورٹ" کے ساتھ "مسجد" گویا دنیا کے ساتھ دین کو جوڑنے کی کوشش ہے۔ اسلام کے مطابق دینداری یہ نہیں ہے کہ آدمی دنیا کو چھوڑ کر روحانی جزیرہ میں چلا جائے۔ صحیح دینداری یہ ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے وہ دین دار بنا رہے۔ اس کا جسم بظاہر دنیا میں دکھائی دے مگر اس کا دل خدا کی یاد میں مشغول ہو۔
کراچی سے دہلی کے لیے میرے علاوہ تقریباً ایک درجن مسافر اور تھے۔ ان کے عورتیں اور بچے بھی تھے۔ دہلی کے مسافروں کو انتظار گاہ کے ایک حصہ میں بٹھا دیا گیا تھا۔ یہاں ان ہندوستانیوں کے بچے مستقل طور پر شور و غل کرنے میں مشغول تھے اور اسی کے ساتھ ان کی مائیں بھی۔ مغربی دنیا میں ہندوستانیوں کو بہت حقیر سمجھا جاتا ہے۔ اور مجھے اس سے پورا اتفاق ہے۔ ہندوستانی انسان اخلاقی اعتبار سے اتنے پست ہو چکے ہیں کہ مقابلہ اگر دیکھا جائے تو وہ مغربی انسان کے مقابلہ میں غیر انسان نظر آئیں گے۔ باہر کی دنیا میں چھوٹے چھوٹے ملک بھی ہندوستان سے بہتر نظر آتے ہیں۔ ہندوستان کا انسان میرے تجربہ میں، با اصول زندگی سے واقف نہیں۔ وہ صرف ایک چیز جانتا ہے، اور وہ اس کی اغراض اور خواہشیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان انسانی آبادی سے زیادہ ایک جنگل کے مشابہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues