Al-Risala · April 1989 · page 21

He must at once jump into the 5th gear.

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۲۱

اور جنگل میں محفوظ طور پر زندہ رہنے کی صورت صبر و اعراض کے سوا اور کچھ نہیں۔ ۴ نومبر کو کراچی سے دہلی آتے ہوئے ہوائی جہاز میں میرے پاس کی سیٹ خالی تھی۔ دورانِ پرواز اچانک ایک صاحب آئے اور اس پر بیٹھ گئے۔ دیکھا تو وہ جناب فطین اشرف صدیقی (پیدائش ۱۹۶۲) تھے وہ سیتا مڑھی (بہار) سے تعلق رکھتے ہیں اور آج کل مسقط (سلطنتِ عمان) میں بہ سلسلہ روزگار مقیم ہیں۔ گفتگو کے دوران پاکستان کے آئندہ ہونے والے الیکشن (۱۶ نومبر ۱۹۸۸) کا ذکر ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ ہمارے یہاں بڑی تعداد میں پاکستان کے لوگ آباد ہیں۔ ان کا عام خیال یہ ہے کہ اس الیکشن میں "اسلامی اتحاد" کے لوگ جیتیں گے اور وہی آئندہ حکومت بنائیں گے۔ خاص طور پر "اسلامی جماعت" کے لوگ تو اس طرح بات کرتے ہیں گویا پاکستان کا سیاسی مستقبل انھیں کے ہاتھ میں ہے۔

میں نے کہا کہ یہ ناممکن ہے۔ اگر کھلا الیکشن ہوتا ہے تو یقینی ہے کہ بے نظیر بھٹو کی پارٹی جیتے گی اور وہی حکومت بنائے گی۔ یہ بات الیکشن سے دو ہفتہ پہلے ہو رہی تھی جب کہ دنیا بھر کے "اسلام پسند" پاکستان میں "اسلامی جماعت" کی کامیابی کا بالکل یقین کیے ہوئے تھے۔ چنانچہ فطین اشرف صدیقی صاحب کو میرے اس بیان پر بہت تعجب ہوا۔

میں نے کہا کہ پاکستان کا یہ الیکشن ایک کسوٹی ہے۔ ایک رائے پاکستان کے اور دنیا بھر کے "اسلام پسندوں" کی ہے اور ایک رائے میری ہے۔ اس معاملہ میں اگر "اسلام پسند" لوگوں کی رائے درست نکلی تو وہ لوگ با بصیرت ہیں اور میں بے بصیرت ۔ اس کے برعکس اگر میری رائے درست ثابت ہو تو آپ کو ماننا ہوگا کہ میں بابصیرت ہوں اور وہ لوگ بے بصیرت ۔ فطین اشرف صاحب یہ سن کر ناقابل فہم تعجب کے ساتھ خاموش ہو گئے۔

آج ہر شخص جانتا ہے کہ ۱۶ نومبر کے پاکستانی الیکشن میں بھٹو پارٹی نے، ووٹروں کے لیے شناختی کارڈ کی شرط جیسے بعض ناموافق حالات کے باوجود سب سے بڑی کامیابی حاصل کی۔ یہاں تک کہ یکم دسمبر ۱۹۸۸ کو بے نظیر بھٹو وزیرِ اعظم پاکستان کی کرسی پر بیٹھ چکی تھیں۔ دوسری طرف پاکستان کی "اسلامی جماعت" کا یہ حال ہوا کہ اس کے تمام امیدوار ہار گئے۔ پاکستان کی مرکزی اسمبلی میں اس کو کوئی سیٹ نہ مل سکی۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues

Printed page