Al-Risala · April 1989 · page 23

He must at once jump into the 5th gear.

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۲۳

پر حملہ کر دیا۔ اس وقت مامون عبد القيوم نے پڑوسی ہندوستان سے مدد کی درخواست کی۔ ہندوستان سے بذریعہ ہوائی جہاز فوج بھیجی گئی جس نے بغاوتی کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ واضح ہو کہ مالدیپ کے پاس اپنی کوئی فوج نہیں ہے ۔

۴ نومبر کو میں پیشگی اطلاع کے بغیر دہلی پہنچا تھا۔ اس لیے یہ معلوم تھا کہ ہمارے دفتر کا کوئی آدمی ایر پورٹ پر موجود نہ ہو گا ۔ میں چاہتا تھا کہ ٹیلی فون کے ذریعہ دفتر میں اپنی آمد کی اطلاع دیدوں، تاکہ وہاں سے کوئی شخص آجائے ۔ مگر ہوائی جہاز سے اترنے کے بعد آدمی کو امیگریشن کی کھڑکی پر لائن لگانی پڑتی ہے اور یہاں کافی وقت لگ جاتا ہے ۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ پبلک ٹیلی فون باہر کے حصہ میں تھا۔ میں نے چاہا کہ امیگریشن کی لائن میں لگنے سے پہلے میں ٹیلی فون کر دوں تاکہ جب میں یہاں سے فارغ ہو کر باہر نکلوں، اس وقت تک دفتر سے کوئی شخص آچکا ہو۔

اندر صرف پولیس کا ٹیلی فون تھا۔ میں پولیس کے دفتر میں گیا اور اپنی ضرورت بیان کی ۔ پولیس کا آدمی یہ کہہ سکتا تھا کہ یہ دفتر کا ٹیلی فون ہے ۔ آپ پبلک بوتھ پر جا کر ٹیلی فون کریں۔ مگر اس نے میری ضرورت محسوس کی اور فوراً ٹیلی فون کو میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ کر لیجیے: پہلے زیرو گھمایئے، اس کے بعد اپنا نمبر ڈائل کیجیے، اس نے کہا۔ چنانچہ میں نے پولیس کے دفتر سے ٹیلی فون کر دیا۔ جب میں اندر کی کارروائیوں سے فارغ ہو کر باہر نکلا، تو وہاں دفتر کا آدمی بھی آچکا تھا۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر آپ اپنی ضرورت کو معقول طور پر پیش کر سکیں تو فریق ثانی خود اپنے ضمیر کے تحت اس کو ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے، خواہ وہ پولیس کا آدمی ہو یا غیر پولیس کا آدمی۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues

Printed page