He must at once jump into the 5th gear.
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۴۴
خبر نامہ اسلامی مرکز ۵۰
۱- ڈاکٹر رالف سسن (Ralph R. Sisson) اسٹیٹ یونیورسٹی آف نیو یارک (امریکہ) میں کمیونی کیشن کے پروفیسر ہیں۔ وہ مذاہب کی عبادات و رسوم پر ریسرچ کر رہے ہیں۔ وہ ۲۳ جنوری ۱۹۸۹ کو اسلامی مرکز میں آئے اور اسلام کی عبادت کے موضوع پر صدر اسلامی مرکز سے تفصیلی انٹرویو لیا۔ ۲۷ جنوری کو انھوں نے دوبارہ صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی اور اپنے موضوع کے بارے میں مزید گفتگو کی۔ صدر اسلامی مرکز نے خاص طور پر ان کو نماز کا فلسفہ اور اس کی حقیقت سمجھائی۔ وہ بہت خوش اور مطمئن ہوئے۔ صدر اسلامی مرکز کے کہنے پر انھوں نے عملاً ایک وقت کی نماز صدر اسلامی مرکز کے ساتھ دہلی کی ایک مسجد میں پڑھی۔
۲- ناصر الدین شیخ صاحب نے اس سے پہلے " انسان اپنے آپ کو پہچان " کا ترجمہ گجراتی زبان میں کیا تھا اور اس کو بمبئی کے ایک گجراتی اخبار میں شائع کرایا تھا۔ اب انھوں نے اس کتاب کا ترجمہ مراٹھی زبان میں کیا ہے اور اس کو پمفلٹ کی صورت میں زیادہ تعداد میں شائع کیا ہے۔ جو لوگ انسان اپنے آپ کو پہچان کا مراٹھی ترجمہ حاصل کرنا چاہتے ہوں وہ ذیل کے پتہ پر دو روپیہ کا ٹکٹ بھیج کر اسے حاصل کر سکتے ہیں :
3/5. 9th Cross Lane, P. Bapurao Marg, Bombay 400004 ناصرالدین شیخ صاحب خاتون اسلام اور تعمیر ملت کا ترجمہ بھی کر رہے ہیں ۔ ۳- نیویارک (امریکہ) سے مولوی ابراهیم مامون اپنے خط مورخہ ۱۸ جنوری ۱۹۸۹ میں لکھتے ہیں : نیویارک میں میری ملاقات پروفیسر تھامس سے ہوئی ۔ وہ مجھ سے عربی سیکھتے تھے اور میں ان سے انگریزی سیکھتا تھا۔ بہت پہلے انھوں نے اسلام کی تاریخ کے بارہ میں پڑھا تھا۔ میں نے مولانا وحیدالدین خاں صاحب کی ساری کتابیں ان کو مطالعہ کے لیے دیں۔ مطالعہ کے بعد انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ان کا اسلامی نام خالد تھا۔ افسوس کہ جلد ہی ۵۵ سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا ۔
۴- ڈاکٹر ہیر الال چوپڑہ (سابق پروفیسر کلکتہ یونیورسٹی) الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ وہ اپنے خط ۲ دسمبر ۱۹۸۸ میں لکھتے ہیں: اس زمانہ میں جس طرح آپ اسلام کی توضیح و تشریح فرماتے
‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues