Al-Risala · January 1989 · page 19

مسائل ملت

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۹، صفحہ ۱۹

مسائل ملت

فرد ملت کے مسائل کا جو حل ہے ، وہی خود ملت کے مسائل کا حل بھی ہے ۔ ملت کا ایک فرد اپنی ذاتی کوشش سے اپنی زندگی کی تعمیر کرتا ہے ۔ اسی طرح مجموعہ افراد جس کا نام ملت ہے ، اس کے مسائل بھی اس کی اپنی کوششوں سے حل ہوں گے ۔ کوئی دوسرا اس کے مسائل کو حل کرنے والا نہیں ۔

اس دنیا میں ایک بھائی کبھی دوسرے بھائی کے لئے نہیں کماتا ۔ کوئی رشتہ دار دوسرے رشتہ دار کے لئے لڑائی نہیں لڑتا ۔ یہ بات ہر شخص جانتا ہے ۔ اس لئے ہر شخص پہلی فرصت میں "اپنی تعمیر آپ" کے اصول پر اپنی زندگی کی جدوجہد میں لگ جاتا ہے ۔ مگر عجیب بات ہے کہ ملت کا سوال سامنے آتے ہی تمام لوگ بالکل دوسرے انداز سے سوچنے لگتے ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ملت کے مسائل کا تعلق خود ملت سے نہیں بلکہ دوسروں سے ہے۔ اس کا تعلق حکومت سے ہے ، انتظامیہ سے ہے ، فلاں فلاں متعصب جماعتوں اور گروہوں سے ہے۔ وغیرہ۔

کوئی کہتا ہے کہ ملی مسئلہ کے ذمہ دار فلاں فلاں سرکاری افسر ہیں ، اس لئے ان افسروں کو معطل کراؤ۔ کوئی کہتا ہے کہ حکمراں پارٹی اس کی ذمہ دار ہے ، اس لئے الیکشن میں اس پارٹی کے امیدواروں کے خلاف ووٹ دے کر انہیں شکست دو ۔ کوئی کہتا ہے کہ متعصب جماعتیں اس کی ذمہ دار ہیں ، اس لئے اخبار نکال کر ان کے خلاف دھواں دھار مضامین شائع کرو۔ یہ باتیں مضحکہ خیز حد تک غلط ہیں ۔ اور اس غلطی کے سب سے بڑے ذمہ دار مسلمانوں کے نام نہاد رہنما ہیں ۔ یہ رہنما اپنے ذاتی مسائل کو تو ہمیشہ حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ حل کرتے ہیں ۔ اور ملی مسائل کے بارے میں پرجوش تقریریں کر کے پوری قوم کا مزاج بگاڑ رہے ہیں ۔ وہ ملت کے اندر تعمیر کے بجائے احتجاج کا ذہن بنا رہے ہیں ۔

کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ ملت کے افراد کو باشعور بنایا جائے ۔ ان کے اندر اخلاقی اوصاف پیدا کئے جائیں ۔ دوسروں کے خلاف بیان دینے اور تقریریں کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1989 All issues

Printed page