Al-Risala · January 1989 · page 18

حکیمانہ طریقہ

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۹، صفحہ ۱۸

سیکڑوں آدمیوں کو ہٹیا ہونے سے بچالیا۔ ایک اور ہندو نے کہا کہ جس شخص نے مسجد میں خنزیر ڈالا وہ بہت گرا ہوا انسان ہے۔ جو شخص عبادت خانہ کو گندا کرے اس سے زیادہ برا آدمی اور کوئی نہیں۔ وغیرہ۔

حاجی صاحب نے اعراض اور حکمت کے طریقہ کو اختیار کر کے پوری بستی کو تباہی و بربادی سے بچالیا۔ اگر وہ خنزیر کو دیکھ کر مشتعل ہو جاتے تو گہرا یقینی طور پر فساد کی نذر ہو جاتا۔ معین الدین صاحب سے میں نے پوچھا کہ اس معاملہ میں عام مسلمانوں کا رد عمل کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ خبر پھیلی تو مسلمان ادھر اُدھر سے آکر مسجد میں جمع ہونے لگے۔ گیارہ بجے تک ہزاروں کی تعداد میں مسلمان وہاں آچکے تھے۔ وہ لوگ سخت غصہ میں تھے اور حاجی اسرار الحق صاحب کے اوپر بری طرح برس رہے تھے۔ کچھ لوگ برا بھلا کہہ رہے تھے۔ کچھ باقاعدہ گالی دے رہے تھے ۔ ساری باتوں کا خلاصہ یہ تھا کہ تم بزدل ہو، تم پست، ہمت ہو۔ تم نے کیوں خنزیر کو غائب کیا۔ اگر وہ ہمارے پاس موجود ہوتا تو آج ہم انھیں بتا دیتے ۔ ۔۔۔۔

میں نے کہا کہ یہ بزدلی اور بہادری کا وہ معیار ہے جو مسلمانوں کی قومی شریعت میں پایا جاتا ہے۔ خدا کی شریعت کا معیار اس سے مختلف ہے۔ خدا کی شریعت کا معیار حدیث میں اس طرح بتایا گیا ہے :

عن ابی ہریرة ، قال رسول الله صلى الله حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم : ليس الشديد بالصرعة - إنما علیہ وسلم نے فرمایا کہ طاقتور وہ نہیں ہے جو کشتی میں الشديد الذى يملك نفسه عند الغضب کسی کو پچھاڑ دے۔ طاقتور وہ ہے جو غصہ کے وقت (متفق عليه) اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔

مذکورہ حدیث بہادری کا یہ معیار بتاتی ہے کہ آدمی غصہ دلانے کے با وجود غصہ نہ ہو۔ اشتعال انگیزی کے با وجود وہ اشتعال میں نہ آئے ۔ اس کے برعکس مسلمانوں کے نزدیک بہادری یہ ہے کہ کوئی شخص اگر غصہ دلانے والا فعل کرے تو وہ بھڑک کر اس سے لڑنا شروع کر دیں۔ مسلمان ایسے واقعات کو قومی وقار کا مسئلہ بنا لیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ فوراً فریقِ مخالف سے لڑ جاتے ہیں۔ اگر وہ اس کو شرعی نگاہ سے دیکھیں تو وہ وہی کریں جو مذکورہ حاجی صاحب نے ایسے موقع پر کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1989 All issues

Printed page