حمد اور تضرع
الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۴
حمد اور تضرع
عَنِ ابی أُمَامَة ، قَالَ قَالَ رَسُولِ اللَّهِ صلى حضرت ابوامامہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَرَضَ عَلَى رَبِّي لِيَجْعَلَ لِی علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے رب نے میرے سامنے یہ بَطْحَاءَ مَكَّةَ ذَهَبًا، فَقُلْتُ: لَا يَا رَبَّ، وَ پیش کش کی کہ مکہ کی وادی کو تمہارے لئے سونا لَكِنْ أَشْبَعُ يَومًا وَأجوعُ يَوْمًا - بنا دیا جائے ۔ میں نے کہا کہ اے میرے رب ، فَإِذَا اجِعْتُ تَضَرَّعْتُ إِلَيْكَ وَذَكَرْتُكَ، نہیں۔ بلکہ مجھے یہ پسند ہے کہ میں ایک دن کھاؤں وَإِذَا شَبِعْتُ حَمِدْتُكَ وَشَكَرْتُكَ اور ایک دن بھوکا رہوں ۔ پس جب مجھے بھوک لگے تو میں تیری طرف عاجزی کروں اور تجھ کو یاد کروں۔ اور جب مجھے سیری حاصل ہو تو میں تیری تعریف کروں اور تیرا شکر ادا کروں۔
اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے دو چیزیں مطلوب ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اللہ کی قدرت کا اعتراف کرے اس کے آگے اپنے عجز کا اظہار کریں۔ دوسرے یہ کہ وہ اللہ کی نعمتوں کو محسوس کر کے اس پر شکر کرنے والے بن جائیں ۔ یہ دونوں باتیں نہایت وضاحت کے ساتھ قرآن و حدیث میں بتائی گئی ہیں۔ مگر اس کا سب سے بڑا اعلیٰ تجربہ وہ ہے جو بھوک اور سیری کی صورت میں انسان کے ساتھ پیش آتا ہے۔ جب آدمی کو بھوک لگتی ہے، جب اس کو پیاس ستاتی ہے، اس وقت اس کو آخری حد تک اس حقیقت کا احساس ہوتا ہے کہ وہ کس قدر کمزور اور محتاج ہے۔ اسی طرح جب بھوک پیاس کی شدت میں مبتلا ہونے کے بعد اس کو کھانا اور پانی ملتا ہے تو اس وقت اس کو آخری طور پر محسوس ہوتا ہے کہ کھانا اور پانی کتنی زیادہ قیمتی چیزیں ہیں۔ اس دنیا میں آدمی کو بھوک کا تجربہ بھی ہونا چاہئے اور سیری کا بھی ۔ اس پر یہ کیفیت بھی گزرنی چاہئے کہ اس کا حلق پیاس کی وجہ سے سوکھ گیا ہو، اور اسی کے ساتھ یہ کیفیت بھی کہ اس نے ٹھنڈا پانی پیا اور اس کے بعد اس کا وہ حال ہو گیا جس کو حدیث میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے : ذهَب الظَّمَأُ وابتلت العروق (پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہوگئیں)