حمد اور تضرع
الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۵
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حالات کے بغیر کیفیتیں پیدا نہیں ہوتیں۔ روزہ اسی قسم کے حالات پیدا کرنے کی ایک سالانہ تدبیر ہے۔ روزہ کے ذریعہ آدمی کو بھوک اور پیاس دونوں کا تجربہ کرایا جاتا ہے، تاکہ وہ خدا کے آگے عاجزی کرنے والا بنے اور اسی کے ساتھ اس کا شکر کرنے والا بھی۔
قرآن میں روزہ کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اے ایمان والو، تم پر روزہ فرض کیا گیا جس طرح تم سے اگلوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم پرہیزگار بنو ... رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا .... پس تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے، وہ اس کے روزے رکھے .... اور اللہ کی بڑائی کرو اس پر کہ اس نے تم کو راہ بتائی، اور تاکہ تم اس کے شکر گزار بنو (البقرہ ۸۵۔ ۱۸۳) ان آیات میں روزہ کے دو خاص فائدے بتائے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ روزہ آدمی کے اندر تقویٰ پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ دوسرے یہ کہ اس سے آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کا شکر کرنے والا بنے۔
قرآن میں جس دینی کیفیت کے لئے تقویٰ اور شکر کا لفظ استعمال ہوا ہے، اسی کو حدیث میں تضرع اور شکر کہا گیا ہے۔ یہی دونوں کیفیتیں عبدیت کی اصل ہیں۔ اللہ کے مقابلہ میں اپنے عجز کا احساس آدمی کے اندر تضرع اور تقویٰ کے احساسات ابھارتا ہے۔ اور اللہ کے عطیات کا احساس اس کے اندر حمد اور شکر کے جذبات پیدا کرتا ہے۔
اگر آدمی کا شعور بیدار ہو تو یہ دونوں کیفیات ہر روز ہر تجربہ سے آدمی کے اندر پیدا ہوتی رہیں گی۔ وہ ہر واقعہ سے یہ دونوں ربانی غذائیں حاصل کرتا رہے گا۔ پھر انھیں دونوں کیفیات کو مزید شدت اور عمومیت کے ساتھ حاصل کرنے کے لئے رمضان کے مہینہ کا روزہ مقرر کیا گیا ہے۔ رمضان کا روزہ گویا عمومی تربیت کا خصوصی کورس ہے۔