Al-Risala · May 1989 · page 10

خفیہ تصویر کشی

الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۱۰

ایک آیت

قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ اگر مسلمانوں کے دو اگر وہ آپس میں لڑ جائیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔ پھر اگر ان میں کو ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔ پھر گروہ لوٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کراؤ، اور انصاف کرو۔ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے (الحجرات ۹)

اس آیت میں اس جنگ کا ذکر نہیں ہے جو مسلم عوام اور مسلم حکمران کے درمیان ہو۔ ایسی جنگ اسلام میں حرام ہے۔ ایک مسلم حکومت جب وہ قائم ہو جائے ، تو اس کے خلاف بغاوت جائز نہیں ۔ خواہ مسلم حکومت میں بگاڑ آگیا ہو، اور خواہ مسلم عوام اس کے خلاف "اصلاح سیاست" کا نعرہ لے کر کیوں نہ اٹھے ہوں۔

اس آیت کا خطاب اسلامی حکومت کے ذمہ داروں سے ہے۔ اور اس میں جس باہمی جنگ (اقتتال) کا ذکر ہے، وہ عام مسلمانوں میں سے دو گروہوں کا آپس میں لڑ جانا ہے اس آیت کا مسلم حکومت اور عوام کے درمیان جنگ سے کوئی تعلق نہیں۔

قرآن کی اس آیت میں ان لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے جو کسی مسلم معاشرہ میں حاکمانہ اختیار رکھتے ہوں۔ ان کے ماتحت لوگوں میں سے دو فریق یا دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو اس وقت حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ اس باہمی ٹکراؤ کو ختم کریں۔ حکمرانوں کو چاہئے کہ دونوں فریقوں کے درمیان باہمی رضا مندی سے صلح کرا دیں۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی فریق اپنے بھائی کے خلاف زیادتی کرے تو اس کو طاقت کے ذریعہ ایسا کرنے سے روک دیا جائے۔ اگر مسلم حکومت قائم ہو تو اس آیت کا خطاب مسلم حکمرانوں سے ہوگا۔ اور جہاں مسلم حکومت نہ ہو وہاں اس کے مخاطب علماء اور رہنما ہوں گے۔ اپنی استطاعت کے مطابق ان کا فرض ہوگا کہ مسلمانوں کے باہمی جھگڑے میں دخل دیں اور ہر ممکن دباؤ کا استعمال کر کے معاملہ کو منصفانہ انداز میں ختم کرانے کی کوشش کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1989 All issues

Printed page