Al-Risala · May 1989 · page 9

خفیہ تصویر کشی

الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۹

نظام فوراً متحرک ہو کر اس کو محفوظ کرنا شروع کر دیتا ہے۔ آخرت کی عدالت میں اسی ریکارڈ کی بنیاد پر ہر آدمی کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ انسان کا بنایا ہوا نظام ہے جو ایک سیکنڈ کے بقد ر خلاف ورزی کو بھی فوراً پکڑ لیتا ہے پھر جب انسان کے بنائے ہوئے نظام کا یہ حال ہے تو خدا کے بنائے نظام کی گرفت کتنی زیادہ ہوگی۔ انسانی نظام محدود ہے اور خدائی نظام لامحدود۔ اسی سے دونوں نظاموں کے فرق کو سمجھا جا سکتا ہے۔ آدمی اگر اس سنگین حقیقت پر غور کرے تو اس کے چلتے ہوئے قدم رک جائیں۔ اس کی بولتی ہوئی زبان بند ہو جائے۔ اس کا قلم اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑے۔ دنیا میں آدمی کسی سڑک پر صرف اس وقت تک اپنی گاڑی کو غلط چلاتا ہے جب تک اس کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس سڑک پر ٹریفک پولیس نے اس کی غلطی کو پکڑنے کا طاقت ور انتظام کر رکھا ہے۔ پولیس کے اس انتظام کا علم ہوتے ہی ہر آدمی چوکنیا ہو جاتا ہے اور اپنی گاڑی کو غلط دوڑانے سے رک جاتا ہے۔

اسی طرح آدمی کو اگر اس بات کا پورا یقین ہو جائے کہ اس کے چاروں طرف خدا کی ’’پولیس‘‘ لگی ہوئی ہے جو ہر لمحہ اس کی نگرانی کر رہی ہے اور اس کی ہر چھوٹی یا بڑی کارروائی کا ریکارڈ تیار کرنے میں مشغول ہے تو اس کی ساری سرکشی ختم ہو جائے ۔ یہ احساس پیدا ہوتے ہی آدمی ایک محتاط انسان بن جائے گا۔ وہ اپنی زندگی کے ہر معاملہ میں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرلے گا۔

انسان کا بگاڑ اس کا نام ہے کہ وہ اس سنگین حقیقت سے بے خبر ہو۔ اس کے مقابلہ میں انسان کی اصلاح یہ ہے کہ اس کو اس سنگین حقیقت کا زندہ احساس ہو جائے۔ حقیقت حج از مولانا وحید الدین خاں صفحات ۱۱۳ ہدیہ ۲۵ روپیہ

‹ Previous page Next page › Contents of May 1989 All issues

Printed page