فرضی کہانی
الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۱۲
فرضی کہانی
سلمان رشدی (۴۲ سال) کی کتاب شیطانی آیات (The Satanic Verses) جون ۴؍۵ صفحات پر مشتمل ہے ، اس پر نیو یارک کے ہفت روزہ ٹائم (۱۳ فروری ۱۹۸۹) میں تبصرہ شائع ہوا ہے ۔ تبصرہ نگار مسٹر پال گرے (Paul Gray) کا کہنا ہے کہ کتاب کے خلاف مسلمانوں کے عوامی احتجاجات (Public protests) غیر ضروری تھے۔ راقم الحروف خود بھی اس قسم کے احتجاج اور شور و غل کو غیر ضروری سمجھتا ہے۔ کتا اگر ہاتھی پر بھونکے تو ہاتھی کتے پر نہیں بھونکتا۔ کیوں کہ ہاتھی کی عظمت بذات خود کتے کی ہر بھونک کا جواب ہے۔ اور جب چپ کی زبان کافی ہو تو بولنے کی زبان استعمال کرنے کی کیا ضرورت ۔
تاہم اس سلسلہ میں تبصرہ نگار نے جو توجیہہ کی ہے ، اس توجیہہ سے مجھے اتفاق نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کتاب اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ تاریخ کی جگالی (Rumination on history) ہے۔ بالفاظ دیگر ، وہ اصلاً تاریخی واقعات پر مبنی ہے ، اور جب ایسا ہے تو اس کے خلاف ہنگامہ اور احتجاج کیوں۔ مگر یہ مفروضہ بذات خود واقعہ کے مطابق نہیں کہ کتاب میں جو باتیں درج ہیں ان کی بنیاد کسی تاریخی واقعہ پر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب اپنے اسلوب کے اعتبار سے بھی افسانہ ہے اور اپنی تاریخی بنیاد کے اعتبار سے بھی افسانہ۔
تبصرہ نگار لکھتے ہیں کہ کتاب میں جبریل اور محمد کے درمیان تبادلہ کلام ، بظاہر بگڑے ہوئے اور خیالی انداز میں ، ایک قصہ پر مبنی ہے جو محمد کی زندگی میں پیش آیا۔ پیغمبر ابتدا اس پر راضی ہو گئے کہ عرب کی تین دیویوں کا اعتراف قرآن میں شامل کر دیں ، اور بعد کو انھوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہ آیتیں شیطان کی الہام کی ہوئی تھیں ۔ اگر محمد خود یہ اقرار کرنے کے لیے تیار تھے کہ انھیں دھوکا دیا گیا ہے تو یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اس قدیم گزرے ہوئے واقعہ کا مماسی اور افسانوی بیان آج کیوں اتنے ہنگامہ کا سبب بن جائے : The Gibreel-Mahound exchanges are based, in an obviously distorted and hallucinatory manner, on an episode in the life of Muhammad: the Prophet's early willingness to include in the Quran an acknowledgment of three female deities and his later repudiation of these verses as satanically inspired. If Muhammad himself was willing to admit that he had been deceived, it is difficult to see why a tangential, fictional version of this long-ago event should cause such contemporary furor (p. 42).