فرضی کہانی
الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۱۳
اس اقتباس میں جس "واقعہ " کا ذکر ہے ، وہ سورہ النجم سے تعلق رکھتا ہے ۔ متعلقہ آیتیں حسب ذیل ہیں :
أَفَرَأَيْتُمُ اللات والعزىٰ ۔ ومناة الثالثة کیا تم نے لات اور عزیٰ کو دیکھا ۔ اور تیسرے ایک الاخرى ۔ الكم الذكر وله الأنثىٰ ۔ تلك اور منات کو ۔ کیا تمہارے لیے بیٹے ہیں اور خدا کے اذاً قسمة ضيزى (النجم ۱۹-۲۲) لیے بیٹیاں ۔ یہ تو بہت بے ڈھنگی تقسیم ہے ۔ قدیم عرب میں تین بڑے بت تھے ۔ لات ، عزیٰ ، اور منات ۔ ان بتوں کو اس زمانہ میں بہت بڑی چیز سمجھا جاتا تھا ۔ ان بتوں کی بڑائی بیان کرنے کے لیے لوگوں نے طرح طرح کے کلمات وضع کر رکھے تھے ۔ یاقوت الحموی نے معجم البلدان میں لکھا ہے کہ قریش کعبہ کا طواف کرتے ہوئے یہ الفاظ کہا کرتے تھے : واللات والعزیٰ ومناة الثالثة الاخرى هؤلاء الغرانيق العلى وإنّ شفاعتهنّ لترتجى (قسم ہے لات اور عزیٰ کی اور تیسرے منات کی۔ یہ سب بلند مرتبہ ہیں۔ ان کی سفارش ضرور متأَوْقَعَ ہے )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مکہ میں سورہ النجم کی مذکورہ آیتیں اتریں تو آپ نے حسب معمول ایک مجمع میں ان کو سنایا ۔ وہاں مسلمانوں کے ساتھ کچھ مشرک لوگ بھی موجود تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے جب یہ الفاظ نکلے : افرايتسم اللات والعزیٰ ومناة الثالثة الاخرى تو بعض مشرکین نے اس میں اپنے الفاظ ملادیے۔ ۔ اپنے بتوں کے نام سن کر وہ فوراً وہ الفاظ بول پڑے جو ان بتوں کی نسبت سے پہلے سے ان کے یہاں رائج تھے اور جن کو وہ ان بتوں کے نام کے ساتھ جوڑ کر کہا کرتے تھے ۔ وہ الفاظ یہ تھے : تلك الغرانيق العلى وإن شفاعتهن ترتجى۔ ان دوسرے الفاظ کا کوئی بھی تعلق پیغمبر اسلام سے نہ تھا۔ آپ نے تو صرف اول الذکر الفاظ (افرايتم اللات والعزى ومناة الثالثة الاخرى) فرمائے تھے ۔ ثانی الذکر الفاظ (تلك الغرانيق العلى وان شفاعتهن ترتجى) تمام تر مشرکین کے الفاظ تھے جن کو انھوں نے آواز میں ملا کر اپنی طرف سے کہہ دیا۔ یہی بات بعض مفسرین نے ان الفاظ میں کہی ہے : ان الشيطان وقع فى مَسَامِعِ المشركين ذالك شیطان نے مشرکوں کے کان میں یہ الفاظ ڈال وتو هموا انه صدر عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم دیئے ۔ پس مشرکوں نے گمان کر لیا کہ یہ خود رسول اللہ