تاریخ افتتاح الاندلس، ابن القوطیہ، م ، ۳۶۷ھ
الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۱۶
تاریخ افتتاح الاندلس، ابن القوطیہ، م ، ۳۶۷ھ
اخبار مجموعہ، مصنف کا نام لا معلوم ، یہ کتاب چوتھی صدی ہجری میں لکھی گئی۔ ان کے علاوہ چوتھی صدی ہجری میں کئی مشہور مسلم مورخ گزرے ہیں۔ مثلاً ابن عبد الحکیم (فتوح مصر والمغرب والاندلس)، عبد الملک بن حبیب (مبتدا خلق الدنیا)، ابو بکر محمد القرطبی (تاریخ افتتاح الاندلس)، احمد بن محمد، ابن الفرضی (تاریخ علماء الاندلس)، الخشنی (قضاۃ قرطبہ) وغیرہ۔ ان مورخین کے یہاں بھی اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا کہ طارق بن زیاد نے اسپین کے ساحل پر اترنے کے بعد اپنی کشتیوں کو آگ لگا دی تھی۔ حتیٰ کہ اس کے بعد پانچویں صدی ہجری کے مشہور مورخ علامہ ابن خلدون تک کے یہاں بھی اس کا کوئی ذکر نہیں۔
احراق سفن (کشتیوں کو جلانے) کا واقعہ پہلی بار چھٹی صدی ہجری میں بیان کیا گیا۔ ابو مروان عبد الملک بن الکمر دابوس چھٹی صدی ہجری کا ایک مورخ ہے۔ اس نے اپنی کتاب تاریخ الاندلس میں اس قصہ کو درج کیا۔ مگر اس نے یہ نہیں بتایا کہ یہ قصہ اس کو کس ذریعہ سے معلوم ہوا۔ اس لئے آج ہم اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اس کے ماخذ کی تحقیق کریں۔
دوسرا شخص جس نے ابتداءً اس قصہ کو بیان کیا وہ بھی چھٹی صدی ہجری کا ہے۔ یہ ابو عبد اللہ محمد الادریسی (م ۵۶۰ ھ) ہے۔ اس نے نزہۃ المشتاق کے نام سے ایک کتاب لکھی اور اس میں احراق سفن کا قصہ درج کیا۔ مگر اس نے بھی اس کا کوئی ذریعہ نہیں بتایا۔ انھیں دونوں کتابوں سے لے کر دوسرے لوگوں نے اس قصہ کو نقل کرنا شروع کر دیا۔
اب سوال یہ ہے کہ جو واقعہ لوگوں کو ساڑھے چار سو سال تک معلوم نہ تھا، وہ ساڑھے چار سو سال بعد کس طرح لوگوں کے علم میں آگیا۔ ایسی حالت میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ قصہ سراسر فرضی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی دانش مند جنرل ایسا نہیں کر سکتا۔ اسپین میں قیام کے دوران طارق کا اتصال افریقہ (مغرب) سے برابر جاری رہا۔ اگر کشتیاں جلا دی جاتیں تو یہ اتصال کیوں کر ممکن ہوتا۔ طارق نے اسپین کے حالات کا اندازہ کرنے کے بعد موسیٰ بن نصیر (مقیم افریقہ) سے مدد طلب کی۔ چنانچہ موسیٰ بن نصیر نے پانچ ہزار مزید فوجی بطور امداد روانہ کئے۔ یہ پیغام رسانی اور سمندر میں لشکر کی منتقلی کشتیوں کے بغیر کیسے ممکن ہوئی۔