Al-Risala · May 1989 · page 15

طارق بن زیاد

الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۱۵

طارق بن زیاد

طارق بن زیاد نے رجب ۔ رمضان 92ھ (جولائی711ء) میں اسپین کو فتح کیا۔ کہا جاتا ہے کہ طارق جب آبنائے جبرالٹر کے ذریعہ سمندر کو پار کر کے اسپین کے ساحل پر اترے تو انھوں نے اپنی تمام کشتیاں جلا دیں۔ اس کے بعد انھوں نے اپنی فوج کو اسپینیوں سے جنگ پر اکساتے ہوئے کہا: این المفر۔ البحر من ورائکم والعدو اب بھاگنے کی جگہ کہاں۔ سمندر تمہارے پیچھے امامکم۔ فليس لكم والله الا الصدق ہے اور دشمن تمہارے آگے ہے۔ خدا کی قسم اب تمہارے لئے صدق اور صبر کے سوا کوئی راستہ نہیں۔

حقائق کا گہرا تجزیہ بتاتا ہے کہ کشتیوں کو جلانے کا یہ قصہ محض داستان گو قسم کے لوگوں کی ایجاد ہے، وہ کوئی تاریخی واقعہ نہیں۔ ایک عرب مصنف نے لکھا ہے کہ اسپین میں ایک مثل ہے کہ میں نے اپنی تمام کشتیاں جلا دیں ( احرقت کل سُفنی) اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں نے اپنی ساری طاقت خرچ کر دی۔ یعنی جنگ کرو یا مرنے کے لئے تیار ہو جاؤ (ای بذلت کل طاقتی، بمعنی قاتلوا او موتوا) ممکن ہے کہ یہی اسپینی مثل عربی میں ترجمہ ہوئی ہو، اور پھر کچھ لوگوں نے اس کو لفظی معنی میں لے کر بطور خود کشتیوں کو جلانے کا افسانہ گھڑ لیا ہو۔

طارق بن زیاد کا قافلہ پہلی صدی ہجری کے آخر میں اسپین میں داخل ہوا ہے۔ اس زمانہ کی معاصر تاریخ میں یا کسی بھی قریبی زمانہ کی تاریخی دستاویز میں کشتیوں کے جلانے کا کوئی ذکر نہیں۔ ابتدائی دور کی تمام کتابیں اس کے ذکر سے خالی ہیں۔ یہ قصہ پہلی بار ان کتابوں میں ملتا ہے جو اصل واقعے کے ساڑھے چار سو سال بعد چھٹی صدی ہجری میں لکھی گئیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جس واقعے کی خبر معاصر مورخین کو یا قریبی زمانہ کے تاریخ دانوں کو نہ ہوسکی، اس کی خبر سیکڑوں سال بعد کے مصنفین کو کیسے ہوگئی۔

طارق بن زیاد کے فتح اسپین (۹۲ ھ) کے بارہ میں قدیم ترین ماخذ دو کتابوں کو مانا گیا ہے۔ یہ دونوں کتابیں چوتھی صدی ہجری میں لکھی گئی ہیں۔ اور ان میں احراق سفن (کشتیاں جلانے) کا مطلق کوئی ذکر نہیں۔ وہ کتابیں یہ ہیں :

‹ Previous page Next page › Contents of May 1989 All issues

Printed page