Al-Risala · May 1989 · page 18

تاریخی تفصیلات

الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۱۸

کا مقصد اس تبدیلی مذہب سے یہ تھا کہ مقامی عیسائیوں کو مطمئن کرکے اسپین میں اپنے سیاسی اقتدار کو مستحکم کریں۔ جس زمانہ میں مسلمانوں نے باز نطيني اقتدار کو شام، مصر، فلسطین سے ختم کیا، طلیطلہ (طالیڈو) پر گا تھ کا آخری بادشاہ ویٹیکا (ویٹیشہ) حکمران تھا۔ ویٹیکا کی بعض کمزوریوں سے اس کے ایک فوجی افسر ذریق (Radrick) کو موقع ملا کہ وہ اس کی حکومت کا تختہ الٹ دے اور خود اسپین کا حکمران بن جائے۔

سبطہ کا گورنر جولین اگرچہ ویٹیکا کا رشتہ دار تھا۔ تاہم اس نے مصلحت کے تحت اپنی وفاداریاں ذریق سے وابستہ کر دیں۔ مگر بعد کو ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے اس کو بے حد مشتعل کر دیا۔ اور اس کو اپنے بادشاہ کا مخالف کر کے مسلمانوں کے قریب کر دیا جو افریقی براعظم میں اس کے جغرافی پڑوسی تھے۔ اس زمانہ میں اسپین کا حکمران طبقہ بدترین قسم کی عیاشیوں کا شکار تھا۔ رواج کے مطابق امراء کی لڑکیاں عرصہ تک شاہی محل میں رکھی جاتی تھیں تاکہ شاہی آداب و قواعد کو سیکھ سکیں اور بادشاہ کی خدمت کریں۔ رزریق کے عہد میں جولین کی لڑکی فلورنڈا بھی اسی رواج کے مطابق شاہی محل میں داخل ہوئی ۔ لڑکی جوان ہوئی تو ذریق اس پر فریفتہ ہو گیا اور جبری طور پر اس کی عصمت دری کی ۔ لڑکی نے کسی طرح اس واقعہ کی اطلاع اپنے باپ کو دے دی۔

جولین کو اس واقعہ کا انتہائی صدمہ ہوا۔ اس نے قسم کھائی کہ جب تک رزریق کی سلطنت کو دفن نہ کر لے، چین سے نہ بیٹھے گا۔ اولاًوہ طلیطلہ گیا اور لڑکی کی ماں کی بیماری کا بہانہ کرکے اس کو سبطہ واپس لایا۔ اس کے بعد وہ موسیٰ بن نصیر سے ملا اور اس کو اکسا کر تسخیر اندلس پر آمادہ کیا۔ اس نے موسٰی کو اندلس کی اندرونی کمزوریاں بتائیں اور وعدہ کیا کہ وہ اور خود اندلس کے بہت سے لوگ اس مہم میں اسلامی فوج کا ساتھ دیں گے۔ یہ واقعہ ۹۰ھ کا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جولین نے اسلام قبول کر لیا تھا اور اپنا نام مسلم رکھا تھا۔

اس کے بعد موسیٰ بن نصیر نے خلیفہ ولید بن عبد الملک سے خط و کتابت کی۔ کئی خطوط کے بعد ولید نے لکھا: "مسلمانوں کو خوفناک سمندر میں نہ ڈالو۔ اگر تم پر امید ہو جب بھی ابتداءً "تھوڑی سی فوج بھیج کر صحیح اندازہ کرو۔ "

موسیٰ نے رمضان ۹۱ھ میں ایک شخص طریف کو، جس کی کنیت ابو زرعہ تھی پہلی مہم کے طور پر پر

‹ Previous page Next page › Contents of May 1989 All issues

Printed page