تاریخی تفصیلات
الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۱۹
پا پانچ سو آدمیوں کے ساتھ اسپین روانہ کیا۔ جولین بھی ان کے ساتھ تھا۔ شمالی افریقہ کے ساحلی ملک مراکش اور اسپین کے درمیان صرف دس میل کا آبی فاصلہ ہے۔ ان لوگوں نے چار کشتیوں کے ذریعہ اس کو عبور کیا اور دوسری طرف ساحل پر اتر گئے۔ یہ لوگ ساحلی علاقوں میں رہے اور وہاں کے حالات کا اندازہ کر کے دوبارہ واپس آگئے۔
اس کے بعد اگلے سال رمضان ۹۲ھ میں طارق بن زیاد کی سرکردگی میں سات ہزار کا لشکر تیار کیا گیا۔ دس میل کی آبنائے کو پار کر کے جب وہ لوگ اسپین کے ساحل پر اترے تو کہا جاتا ہے کہ طارق نے اپنی تمام کشتیاں جلا دیں۔ مگر کشتیاں جلانے کا واقعہ بعد کا اضافہ شدہ افسانہ معلوم ہوتا ہے۔ اس زمانہ میں ، اور آج بھی ، فاتح کی داستانوں میں اس قسم کے افسانے عام رہے ہیں۔ ہمارے اس خیال کے لئے ایک قرینہ یہ ہے کہ تاریخ اندلس کی قدیم کتابوں میں یہ واقعہ سرے سے مذکور نہیں۔ بتایا گیا ہے کہ سمندر کو پار کر کے جب طارق بن زیاد اسپین کے ساحل پر اترے تو انھوں نے اپنے فوجیوں کو للکارا :
ايها الناس ! العدو امامكم والبحر وراءكم وليس لكم والله الا الجلد والصبر اے لوگو دشمن تمہارے سامنے ہے اور سمندر تمہارے پیچھے ہے ۔ تمہارے لئے خدا کی قسم اس کے سوا کوئی راہ نہیں کہ صبر کرو اور جم کر مقابلہ کرو۔
سپہ سالار کے یہ جوشیلے الفاظ سن کر لشکر کی چیخ اٹھے :
انا ورا١ك يـا طارق طارق ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔
تمام تاریخوں کے متفقہ بیان کے مطابق مخالف فوجوں سے مقابلہ ساحل پر اترتے ہی فوراً پیش نہیں آیا ۔ تھا۔ قیاس یہ ہے کہ یہ تقریر بعد کو اس وقت کی گئی ہے جب کہ عملاً مقابلہ پیش آیا ہے۔ اور فتح اندلس کے بعد جب تقریر کے الفاظ " سمندر تمہارے پیچھے ہے " لوگوں میں عام ہوئے تو قصہ گویوں نے اس میں اپنی طرف سے یہ اضافہ کر دیا کہ یہ تقریر کشتیوں کو جلانے کے بعد کی گئی تھی۔ شاید ان کے نزدیک سمندر کے پیچھے ہونے کے لئے ضروری تھا کہ سمندر اور فوجوں کے درمیان سے کشتیوں کو ہٹایا جا چکا ہو ! وائرلیس کے دور سے ایک ہزار سال پہلے سمندر پار کے ملک میں اترنے والا ایک کا نڈر