تاریخی تفصیلات
الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۲۱
کے لئے ایک نعمت ثابت ہوا کہ تین سال - ۸۸ (88-90ھ) تک اندلس میں سخت قحط پڑا تھا، اس کی وجہ سے اتنے لوگ مرے کہ کہا جاتا ہے کہ اندلس کی آبادی آدھی رہ گئی۔
مزید یہ کہ رذرریق کی ایک لاکھ فوج میں ایک عنصر ایسا بھی تھا جو سابق شاہ اسپین سے عقیدت رکھنے کی وجہ سے باغی رذرریق کا اندر اندر مخالف تھا۔ ان کے فوجی سرداروں میں شہرت اور ابہہ بھی تھے جو سابق شاہ کے بیٹے تھے۔ انھوں نے اپنی خفیہ میٹنگ کی اور کہا:
’’رذرریق خبیث ہمارے ملک پر خواہ مخواہ مسلط ہوگیا ہے، حالاں کہ شاہی خاندان سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ تو ہمارے یہاں کے کمینوں میں سے ہے۔ رہے مسلمان ، وہ تو صرف وقتی لوٹ مار کے لئے آئے ہیں۔ اس کے بعد اپنے وطن کو واپس چلے جائیں گے۔ اس لئے مقابلہ کے وقت اس خبیث کو زرک دینے کے لئے ہم کو خود شکست کھا جانا چاہئے۔ ‘‘ رذرریق کی فوج کے ایک حصہ نے نہایت سخت جنگ کی۔ مگر غیر مطمئن فوجیوں نے جنگ میں زور نہیں دکھایا۔ بالآخر شکست ہوئی اور رذرریق میدان جنگ سے بھاگ کھڑا ہوا۔ اس کے بعد وہ نہ زندہ مل سکا نہ مردہ۔ کہا جاتا ہے کہ بھاگنے کے دوران وہ ایک دلدل میں پھنس کر مر گیا۔
اسپین کے بعض علاقوں کو طارق نے فتح کیا۔ بعض کو مغیث رومی نے، بعض کو موسیٰ بن نصیر نے، جو بعد کو ۱۸ ہزار فوج کے ساتھ اندلس میں داخل ہوئے تھے۔ رعایا کی اپنے بادشاہ اور سرداروں سے بیزاری کی وجہ سے ان کو خود اسپینیوں میں مددگار اور جاسوس ملتے چلے گئے۔ تمام مورخین لکھتے ہیں کہ غیر مسلم جاسوسوں نے اسپین کی ابتدائی فتوحات میں بہت مدد کی۔
انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) نے لکھا ہے کہ اسپین پر مسلمانوں کا حملہ گاتھ کی دعوت پر ہوا تھا نہ کہ محض اپنی تحریک پر۔ ۷۰۹ء میں وٹیزا (Witiza) کی موت سے اسپین میں خانہ جنگی شروع ہوگئی۔ اس جنگ میں رذرریق کے مقابلہ میں وٹیزا کے خاندان نے موسیٰ بن نصیر سے مدد چاہی۔ اس کے بعد طارق ۷۱۱ء میں آبنائے جبرالٹر کو پار کر کے اسپین میں اترے اور رذرریق کو فیصلہ کن شکست دی۔
اس کے بعد تعجب خیز طور پر اکثر اسپینیوں نے رضا کارانہ طور پر اس کی اطاعت قبول کرلی۔ ۲۰ ہزار کی ایک فوج کے ہاتھوں اس تیز رفتار فتح کا سبب غالباً یہ تھا کہ اس وقت اسپین کے لوگوں میں الـسـلامـی ۱۹۸۹ ۲۱