تاریخی تفصیلات
الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۲۰
اس حقیقت سے بے خبر نہیں رہ سکتا تھا کہ اسپین کے ساحل پر اترنے کے بعد یہی کشتیاں وہ واحد ذریعہ ہیں جن سے وہ اپنے مرکز سے مربوط رہ سکتا ہے۔ طارق اور موسیٰ بن نصیر (گورنر افریقہ) کے درمیان پیغام رسانی کا دوسرا کوئی ذریعہ اس زمانہ میں ممکن نہ تھا۔ یہ صرف قیاس نہیں ہے بلکہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ، ساحل اسپین پر اترنے اور مقابلہ پیش آنے کے درمیان تقریباً دو ماہ تک یہی کشتیاں جو دونوں کے درمیان باہمی ربط اور پیغام رسانی کا ذریعہ بنی رہیں۔
طارق جس مقام پر اترے اس کا نام قلعۃ الاسد (Lion’s rock) تھا۔ بعد کو وہ جبل الطارق (جبرالٹر) کے نام سے مشہور ہوا۔ طارق اسپین کے جس ساحل پر اترے وہ اس وقت ایک غیر آباد علاقہ تھا۔ وہاں ایک دشوار گزار پہاڑی کو جائے پناہ قرار دے کر وہ لوگ اکٹھا ہو گئے، تاکہ حالات کو سمجھ کر آئندہ کا نقشہ بناسکیں ۔ اسپین کا بادشاہ رذریق ان دنوں بنبلونہ (Pamplona) کی ایک جنگ میں مشغول تھا، جہاں اس کے خلاف بغاوت ہو گئی تھی۔ اس کو جب طارق کے اسپین میں داخلہ کی خبر ملی تو اس نے حکم دیا کہ ایک لاکھ فوج جمع کی جائے تاکہ مداخلت کاروں کو باہر نکالا جاسکے۔ طارق کا جاسوسی نظام بھی کام کر رہا تھا۔ انھیں جب رذریق کی تیاریوں کی خبر ملی تو انھوں نے فورا اپنا ایک قاصد موسیٰ بن نصیر (گورنر افریقہ) کے یہاں روانہ کیا اور مزید کمک کی درخواست کی۔ ادھر موسیٰ بھی خاموش نہ تھے۔ بلکہ مسلسل تیاریوں میں مشغول تھے۔ چنانچہ انھوں نے کشتیوں کے ذریعہ پانچ ہزار مزید سپاہی بھیج دیئے۔ اس طرح طارق کے لشکر کی تعداد بارہ ہزار ہو گئی۔ طارق نے پیغام رسانی کا یہ تمام کام کشتیوں کے ذریعہ کیا۔ کوئی دوسرا ذریعہ اس زمانہ میں ممکن نہ تھا۔ اور پھر یہ کشتیاں ہی تھیں جنھوں نے پانچ ہزار ہرار فوجوں کی دوسری قسط کو اسپین کے ساحل پر اتارا، جس کے بعد طارق اس قابل ہو گئے کہ وہ اسپین پر حملہ کر سکیں۔ طارق اگر اسپین کے ساحل پر اترتے ہی اپنی کشتیوں کو جلا دیتے تو یہ پیغام رسانی ممکن نہ ہوتی اور نہ مقابلہ کے وقت مزید کمک پہنچ سکتی۔ اس معرکہ میں جولین بھی پوری طرح طارق کے ساتھ تھا۔ اس نے شاہ رذریق کے خلاف مقامی باشندوں کی ناراضگی سے فائدہ اٹھایا اور اپنے تعلقات کی بنیاد پر اسپینی شہریوں کی ایک جماعت طارق کی خدمت میں حاضر کر دی۔ ان لوگوں نے دشمن کی خبریں فراہم کرنے کا کام اپنے ذمہ لیا اور فوجی اعتبار سے کمزور مقامات کی اطلاع مسلمانوں کو دی اور مسلمانوں کی رہبری کرتے رہے۔ یہ واقعہ بھی مسلمانوں