Al-Risala · May 1989 · page 23

دو تصویریں

الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۲۳

دو تصویریں

ہندوستان کے ایک مسلمان لیڈر ہیں۔ وہ دہلی میں رہتے ہیں۔ اوپر پچھلے دس برس سے اس ملک میں وہ سیاست چلا رہے ہیں جس کا نام انھوں نے " اپوزیشن کی سیاست " رکھا ہے۔ وہ ایک ماہانہ رسالہ نکالتے ہیں جس کا نام "مسلم ہندوستان" مگر زیادہ صحیح لفظوں میں "ظالم مہندوستان" ہے۔ اس پرچے کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ہر مہینہ مسلمانوں کے اور ظلم و تعصب کی داستانیں چھاپی جاتی ہیں۔ لیڈر صاحب کے ہر بیان اور ہر تقریر میں اس بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ امتیاز برتا جارہا ہے۔ ان کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ وہ پولیس کی گولیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ انھیں زندگی کے ہر شعبہ سے دھکے دے کر نکالا جا رہا ہے۔ ان کے ملی تشخص کو مٹانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔

دسمبر ۱۹۸۸ء میں میں امریکہ کے سفر پر تھا۔ وہاں میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی جو مذکورہ لیڈر کے ماہنامہ (مسلم ہندوستان) کے خریدار ہیں۔ اور اس کو برابر پڑھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ " اس ماہنامہ کو میں اس لئے پڑھتا ہوں تاکہ ہندوستانی مسلمانوں کے حالات معلوم ہوسکیں۔ اس ماہنامہ کو پڑھنے سے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انڈیا میں مسلمانوں کے لئے کوئی اسکوپ نہیں۔ وہاں محرومی اور مظلومی کے سوا ان کا کوئی اور مقدر نہیں"۔ اس ماہنامہ کا خاص طریقہ یہ ہے کہ یہاں اگر ۹۹ پینس پوائنٹ ہوں تو وہ ان کا ذکر نہیں کرے گا، اور اگر ایک مائنس پوائینٹ مل جائے تو اس کو خوب نمایاں کرکے بیان کرے گا۔

مذکورہ مسلمان لیڈر کا ایک مفصل انٹرویو دہلی کے ایک اردو ہفت روزہ ۲۱ مارچ تا ۶ اپریل ۱۹۸۹) میں چھپا ہے۔ میں نے اس انٹرویو کو پڑھا۔ اس کو پڑھتے ہوئے میں اس کے حصہ پر پہنچا جہاں انھوں نے انٹرویو کو اپنے گھر کے اندرونی حالات بتائے ہیں۔ " اب میں ذاتی بات آپ سے کہہ رہا ہوں۔ میرے ۶ بچے ہیں۔ جن میں پانچ لڑکیاں ہیں"--- مسلمان لیڈر کے ان الفاظ کو پڑھ کر میں نے کچھ دیر کے لئے اخبار بند کر دیا۔ میں نے اپنے ذہن میں سوچنا شروع کیا کہ لیڈر صاحب نے اس کے بعد انٹرویو سے کیا کہا ہوگا۔ انھوں نے اپنے بچوں کے بارہ میں کس قسم کی خبریں بتائی ہونگی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1989 All issues

Printed page