Al-Risala · May 1989 · page 24

دو تصویریں

الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۲۴

لیڈر صاحب کے بیانات، ان کی تقریروں اور تحریروں میں جس ”مسلم ہندوستان“ کی تصویر پیش کی جاتی ہے، اس کی روشنی میں میں نے سوچنا شروع کیا تو قیاسی طور پر جو بات میری سمجھ میں آئی وہ بڑی بھیانک تھی۔

میں نے سوچا کہ لیڈر صاحب نے غالباً یہ خبر دی ہوگی کہ میرا ایک لڑکا ہے۔ اس کو پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ وہ یہاں کے اسکولوں اور کالجوں میں مارا مارا پھرا۔ مگر اس کو کہیں داخلہ نہیں ملا۔ اس کی تعلیم نامکمل رہ گئی۔ آخر مجبور ہو کر وہ رکش چلانے لگا تاکہ کسی طرح اپنا پیٹ پال سکے۔

میرا لڑکا ماشاء اللہ پنج وقتہ نمازی ہے۔ ہمارے علاقے میں ایک ویران مسجد تھی۔ میرے لڑکے نے محلہ والوں کی مدد سے اس کو رنگ روغن کرایا اور اس میں باقاعدہ نماز قائم کی۔ فرقہ پرست اور ملک دشمن عناصر کو یہ بات سخت ناپسند ہوئی۔ وہ ایک روز ہجوم کر کے آئے۔ انھوں نے مسجد میں گھس کر میرے لڑکے کو بری طرح مار پیٹا۔ اس کی داڑھی نوچی جس کو وہ اپنے مذہبی تشخص کے نشان کے طور پر نہایت عزیز رکھتا ہے۔ لڑکے کو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال پہنچایا گیا۔ وہاں وہ بہت دنوں تک زیر علاج رہا۔

میری ایک لڑکی کو تعلیم کا بہت شوق تھا۔ کوشش کے باوجود اس کو اچھے انگریزی اسکول میں داخلہ نہیں ملا۔ مجبوراً اس کو ایک معمولی قسم کے اردو میڈیم اسکول میں داخل کرنا پڑا۔ لڑکی نے پاس کورس سے بی اے کیا۔ اس کے بعد وہ ایم اے کرنا چاہتی تھی۔ مگر داخلہ نہ ملنے کی وجہ سے وہ ایم اے نہ کر سکی۔ ظاہر ہے کہ اس کے بعد اس کو کوئی اچھی سروس نہیں مل سکتی تھی۔ چنانچہ اب وہ گھروں پر جا جا کر اردو اور قرآن کا ٹیوشن کرتی ہے۔ اور اس طرح زندگی کے دن گزار رہی ہے۔ یہی میرے سب بچوں کا حال ہوا۔ ملک میں اندھے تعصب کی وجہ سے کسی کی بھی اچھی تعلیم نہ ہوسکی۔ میری تمام لڑکیاں ماشاء اللہ مذہبی ہیں۔ سب کی سب خدا کے فضل سے شرعی برقعہ پہنتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ جہاں بھی جاتی ہیں، ان کے برقعہ کو دیکھ کر ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ ان کے مذہبی تشخص پر حملے کئے جاتے ہیں۔ کسی بھی اسکول یا کالج میں ان کو نہ داخلہ ملتا ہے اور نہ ملازمت۔ آخر کار میں نے اعلیٰ تعلیم سے مایوس ہو کر یہ طے کیا کہ لڑکیوں کی شادی کر دوں۔ مگر جب

‹ Previous page Next page › Contents of May 1989 All issues

Printed page