دو تصویریں
الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۲۷
ان کے اپنے بیان کے مطابق، وہ بدستور ظالمانہ تعصب کا شکار ہیں۔ ان کے سینے اب پولیس کی گولیوں سے چھلنی کئے جا رہے ہیں۔ گویا شاعر کے الفاظ میں:
دو پھول ساتھ پھولے قسمت جدا جدا ہے نوشہ نے اک پہنا ایک قبر پر چڑھا ہے اس فرق کار از کیا ہے۔ اس سوال پر غور کرتے ہوئے مجھے اپنا ایک واقعہ یاد آیا جو نومبر ۱۹۸۷ء میں میرے ساتھ پیش آیا تھا۔ میں ہندوستان کے ایک شہر میں چند روز کے لئے گیا ہوا تھا۔ وہاں میرا قیام ایک ہوٹل میں تھا۔ ایک مقامی مسلمان لیڈر مجھ سے ملنے کے لئے میرے کمرے میں آئے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ میں آپ کا رسالہ ہر ماہ پابندی کے ساتھ پڑھتا ہوں۔ مگر آپ مسلمانوں کو جو سبق پڑھارہے ہیں، وہ بزدلی کا سبق ہے۔ وہ مسلمانوں کو ہزیمت، شکست، احساس محرومی اور مایوسی کی طرف لے جارہاہے۔ مجھے آپ کے اس نظریہ سے سخت اختلاف ہے۔
آخر میں انھوں نے کہا کہ چلئے، آپ کو شہر کی سیر کرا دیں۔ اس کے بعد وہ مجھ کو اپنی نئی ماروتی کار پر بیٹھاکر شہر کے مختلف حصوں کو دکھاتے رہے۔ راستہ میں انھوں نے بتایا کہ میں یہاں کی میونسپل کمیٹی میں نائب چیئر مین ہوں۔ میں نے کہا کہ اس شہر میں مسلمانوں کی تعداد بمشکل ۵ فی صد ہوگی۔ ایسی حالت میں آپ میونسپل انتخابات میں کس طرح کامیاب ہوتے ہیں۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا : اپنے ذاتی معاملہ میں میری پالیسی وہی ہے جو رسالہ کی پالیسی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ میں یہاں کے ہندوؤں سے ہمیشہ خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آتا ہوں، ان کے کام آنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مقامی پولیس اور انتظامی افسران سے میرے اچھے تعلقات ہیں۔ برادران وطن کو مختلف مواقع پر تحفے تحائف بھی دیتا رہتا ہوں ۔ اس لئے یہاں کے سب لوگ مجھ سے خوش ہیں۔ مجھ کو مسلمانوں کے علاوہ ہندوؤں کے بھی کافی ووٹ ملتے ہیں۔ کوئی بات ناخوشگواری کی ہو تو میں اس کی پروا نہیں کرتا۔
اب مذکورہ مسلمان لیڈر کی کامیابی کا راز میری سمجھ میں آگیا۔ میں نے جان لیا کہ انٹرویو دینے والے لیڈر صاحب کا معاملہ بھی یقیناً یہی ہے۔ لیڈری کے اسٹیج پر تو وہ اپنی وہ پالیسی چلاتے ہیں جس کو وہ" اپوزیشن کی سیاست " یا احتجاجی سیاست کہتے ہیں۔ مگر اپنے گھر اور اپنے بچوں کے