دو تصویریں
الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۲۶
وہ اس ”مسلم ہندوستان“ میں نہیں، جس کی خبر وہ صبح و شام اپنے ہم قوموں کو دیتے رہتے ہیں۔ بلکہ وہ ایک اور ملک میں ہیں جو ان کے بیانات والے ملک سے یکسر مختلف ہے۔ انٹرویو کے مطابق، لیڈر صاحب کے الفاظ یہ تھے :
”اب میں ذاتی بات آپ سے کہہ رہا ہوں۔ میرے 6 بچے ہیں۔ جن میں پانچ لڑکیاں ہیں۔ اور ہمارے سماج میں جس کی اتنی لڑکیاں ہوں، اس کے لئے کتنی پریشانیاں ہوتی ہیں، اس کا احساس آپ کو بھی ہوگا۔ میں نے ایک ہی بات کا وعدہ اپنی اہلیہ سے کیا کہ کچھ ہو جائے، ہم بھوکے مریں، مگر بچوں کی تعلیم پر اثر نہیں ہونے دیں گے۔ آج دس برس بعد اللہ کے فضل سے میری بڑی بیٹی کی شادی ہو گئی۔ اس کا شوہر آئی اے ایس آفیسر ہے۔ دوسری بیٹی کی شادی ہو گئی اور اس کا شوہر ایم ڈی ہے۔ میرا لڑکا امریکہ کی سب سے بڑی یونیورسٹی کی سب سے مایہ ناز ڈگری آپریشن ریسرچ میں پی ایچ ڈی ہے۔ اس کے بعد کی میری لڑکی اللہ کے فضل سے ڈاکٹر ہو چکی ہے، اور آج وہ دہلی میں ہاؤس سرجن ہے۔ اس کے بعد کی لڑکی آئی آئی ٹی سے دو مہینوں میں انجینئرنگ کا کورس مکمل کر لے گی۔ وہ وہاں کی ٹاپر ہے۔ آج اس کے سامنے دسیوں ملازمتوں کے آفر ہیں۔ اور میری آخری اولاد دہلی یونیورسٹی میں بی ایس سی آنرز کے دوسرے سال میں ہے۔ “ یہ دیکھ کر مجھے بے حد حیرت ہوئی کہ لیڈر صاحب اگر چہ اسی ملک میں رہتے ہیں، مگر ان کے گھر کا حال اس مسلم ہندوستان (یا ظالم ہندوستان) سے سراسر مختلف ہے جس کی خبر وہ دنیا کو اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعہ پچھلے دس سال سے دے رہے ہیں۔ ان کے بیانات کے مطابق، ”مسلم ہندوستان“ میں مسلمان صرف ایک برباد شدہ قوم بنا دئے گئے ہیں۔ مگر اسی ”مسلم ہندوستان“ میں ان کا اپنا گھر ترقی اور خوش حالی کی اعلیٰ شاہراہ پر گامزن ہے۔ ۱۹۸۹ میں مذکورہ مسلمان لیڈر کے سیاسی کیریئر کے دس سال پورے ہو گئے۔ اس دس سال میں، خود ان کے اپنے بیان کے مطابق، ان کے ”۶ بچوں“ کا مستقبل اتنا شاندار ہو چکا ہے کہ وہ خود اس پر فخر کرتے ہیں۔ مگر اسی دس سال میں ملت کے بچوں کا حال یہ ہے کہ دوبارہ، خود