دو تصویریں
الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۲۹
زبردست ر از چھپا ہوا حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا یہی وہ بنیادی اصول ہے جس کو الرسالہ کے ذریعہ مسلسل طور پر مسلمانوں کے ذہن نشین کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ زندگی کی تعمیر کا یہی وہ بنیادی اصول ہے جس کو راقم الحروف نے اپنے آرٹیکل مطبوعہ ٹائمس آف انڈیا (۵ ستمبر ۱۹۸۷) میں ان لفظوں میں بیان کیا تھا کہ مسائل کو بھوکا رکھو ، مواقع کو کھلاؤ: Starve the problems, feed the opportunities. لیڈر صاحب نے ، الرسالہ کے اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے ، اپنے بچوں کو سکھایا کہ مسائل کو بھلاؤ اور مواقع کو استعمال کرو۔ حقوق طلبی کا جھنڈا مت اٹھاؤ بلکہ محنت کے ذریعہ اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرو۔ شکایت اور احتجاج کو چھوڑ دو اور مثبت ذہن کے تحت کام کرو۔ حالات سے لڑنے کی حماقت نہ کرو بلکہ حالات سے مطابقت کر کے اپنے مستقبل کی تعمیر کرو۔ ملک کے اندر غیر موافق پہلو بھی ہیں اور موافق پہلو بھی۔ تم لوگ غیر موافق پہلو کو نظر انداز کرو اور جو موافق پہلو ہیں ان پر اپنی ساری توجہ لگا دو۔ تم ٹکراؤ کے بجائے ایڈ جسٹمنٹ کا طریقہ اختیار کرو۔ ایک لفظ میں یہ کہ میں گھر کے باہر لیڈری کے اسٹیج پر الرسالہ کے اصول کی مخالفت کروں گا، اور تم لوگ گھر کے اندر الرسالہ کے اصول کو دانتوں سے پکڑ لو۔ کیوں کہ یہاں کے حالات میں لیڈرانہ مقام الرسالہ والے طریقہ کی مخالفت کرنے میں ملے گا، اور حقیقی کامیابی اس کے طریقہ کو اختیار کرنے میں ہے۔ یہی دو طرفہ تکنیک ہے جس نے بیک وقت دونوں کو کامیاب و با مراد کر دیا ہے، لیڈر کو بھی اور لیڈر کے تمام لڑکوں اور لڑکیوں کو بھی۔
مسلمان لیڈر نے غالباً اسی مصلحت کی خاطر مزید اہتمام یہ کیا کہ اپنے تمام بچوں کو انگلش اسکولوں میں داخل کر کے پڑھایا۔ انھوں نے اپنے کسی بچہ کو اردو میڈیم اسکول میں تعلیم نہیں دلائی۔ کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ ان کے مفروضہ مسلم ہندوستان (یا ظالم ہندوستان ) کو جاننے کا سب سے بڑا ذریعہ مسلمانوں کے وہ " زرد اخبارات " ہیں جو اردو زبان میں شائع ہوتے ہیں۔ بچوں نے اگر اردو جان لی تو وہ اردو کے زرد اخبارات پڑھیں گے ، اور پھر ان کا ذہن غیر ضروری طور پر شکایت اور جھنجھلاہٹ میں مبتلا ہو جائے گا۔ وہ دوسرے مسلمان بچوں کی طرح سڑکوں پر مظاہرے کریں گے اور خواہ مخواه پولیس کی گولیاں کھائیں گے۔ اس لئے عقل مندی یہ ہے کہ اپنے بچوں کو اردو زبان سے