Al-Risala · May 1989 · page 30

دو تصویریں

الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۳۰

نا واقف رکھا جائے تا کہ وہ نہ اردو زبان کے زرد اخبارات پڑھیں اور نہ اس مفسدہ ہندوستان کو جان سکیں جہاں مسلمانوں کے لئے احتجاج اور ایجی ٹیشن کے سوا کچھ اور کرنے کا موقع ہی نہیں۔ جب بانس ہی نہ ہوگا تو بانسری کہاں سے بجے گی۔

یہاں میں یہ اضافہ کروں گا کہ یہ صرف ایک مسلم لیڈر کی بات نہیں، یہی تقریباً تمام مسلم لیڈروں اور رہنماؤں کی بات ہے، خواہ وہ بے ریش رہنما ہوں یا با ریش رہنما۔ ان میں سے ہر ایک کا معاملہ وہی ہے جو اوپر کی مثال میں مذکورہ لیڈر کا نظر آتا ہے۔ یہ لوگ دوسروں کے سامنے الرسالہ کی مخالفت کرتے ہیں، مگر خود وہ دل و جان سے الرسالہ کو اپنا پیر و مرشد بنائے ہوئے ہیں۔ وہ ظاہری طور پر الرسالہ کے طریقہ کو غلط بتاتے ہیں۔ مگر اندرونی طور پر وہ اپنے بچوں کو اور اپنی زندگی کے تمام ذاتی معاملات کو الرسالہ کے بتائے ہوئے طریقہ پر چلا رہے ہیں۔ یہی وہ دو طرفہ کردار ہے جس کو فارسی شاعر نے تمثیلی طور پر ان لفظوں میں بیان کیا تھا کہ وہ بظاہرمَے کا انکار کرتے ہیں، مگر عملاً وہ خود بھی مے پرستوں ہی کے رنگ میں جیتے ہیں: منکر مئے بودن و ہم رنگ مستان زیستن یہ تقسیم کیسی المناک ہے کہ مسلمانوں کے نام نہاد لیڈروں نے اپنے لئے زندگی کا انتخاب کیا ہے، اور عوام کے لئے موت کا۔ ایک لفظ میں یہ کہ جنہیں مرنا نہیں وہ للکارتے ہیں، اور جو للکارتے نہیں وہ مارے جاتے ہیں۔

کتنے ہوشیار ہیں مسلمانوں کے لیڈر ، اور کتنے نادان ہیں ان کے مسلمان پیرو جو کھلے ہوئے استحصال کو دیکھتے ہیں، پھر بھی پوری وفاداری کے ساتھ ان کے پیچھے چلے جارہے ہیں۔ اتنا عجیب منظر شاید اس سے پہلے آسمان نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔

دینِ کامل از مولانا وحید الدین خاں صفحات ۴۰۸ ہدیہ ۳۰ روپے

‹ Previous page Next page › Contents of May 1989 All issues

Printed page