قابلِ غور
الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۵
پر طعن کرنے والوں کے خلاف شور و غل کر کے انہیں پیغمبر آخر الزماں کی نصرت کا کریڈٹ نہیں مل سکتا۔ یہ کریڈٹ انھیں صرف اس وقت ملے گا جب کہ وہ پیغمبر آخر الزماں کے پیغام کی اشاعت کے لیے اٹھیں اور اس کو اس کے تمام ضروری آداب و شرائط کے ساتھ ساری قوموں کے سامنے انجام دیں۔
مسلمانوں کی موجودہ روش کیوں ہے ، اس کا نہایت گہرا نفسیاتی سبب ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان ، مختلف اسباب سے ، دوسری قوموں کے بارہ میں نفرت کی نفسیات میں مبتلا ہیں۔ ان کے بارہ میں وہ محبت اور خیر خواہی کا جذبہ نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ دوسری قوموں کے خلاف بھڑکنے کا موقع ہو تو وہ فوراً بھڑک اٹھتے ہیں۔ اس کے برعکس دوسری قوموں کے ساتھ ہمدردی و خیر خواہی کی بات ہو تو اس کے لیے وہ متحرک نہیں ہوتے۔
" رسول کی شان میں گستاخی " کے مسئلہ پر اٹھنے کے لیے صرف نفرت کا جذبہ کافی ہے ، جو مسلمانوں کے اندر کافی مقدار میں موجود ہے۔ اس کے برعکس " رسول کے پیغام کی اشاعت " کے لیے محبت کا جذبہ درکار ہے جو آج کے مسلمانوں کے اندر موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پہلے سوال پر تیزی سے حرکت میں آجاتے ہیں اور دوسرے سوال پر وہ حرکت میں نہیں آتے ، خواہ اس کے لیے انھیں کتنا ہی زیادہ پکارا جائے۔ یہ صورت حال حد درجہ تشویش ناک ہے۔ مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی اس روش پر نظر ثانی کریں ، یہ روش یقینی طور پر خدا کے نقشہ کے مطابق نہیں۔ دین کامل از مولانا وحید الدین خاں صفحات ۴۶۸ هدیه ۴۰ روپیه قرآن میں اسلام کو دین کامل کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام دین مستحکم ہے۔ اسلام کا ظہور ، دین خداوندی کی تاریخ میں ایک دور کا خاتمہ اور دوسرے دور کا آغاز ہے۔ اسلام نے خدا کے دین کے ساتھ انسانی تعدی کے دور کو ختم کر دیا اور دین کو تمام پہلوؤں سے کامل کر کے اس کو ایسا مستحکم بنا دیا کہ قیامت تک اس کی برتری باقی رہے وہ اپنے پیروؤں کے لیے ابدی سرفرازی کی ضمانت بن جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues