Al-Risala · June 1989 · page 6

سوچنے کی بات

الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۶

سوچنے کی بات

قرآن خدا کی کتاب ہے جو کائناتی حقیقتوں کو بیان کرتی ہے۔ قرآن میں جن حقیقتوں کا اعلان کیا گیا ہے، ان میں سے ایک عالمگیر حقیقت وہ ہے جو ان لفظوں میں ظاہر کی گئی ہے ۔ فان مع العسر یسراً ان مع العسر یسرا (پس مشکل کیساتھ آسانی ہے ۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے)

موجودہ دنیا میں جس طرح کانٹے کے ساتھ پھول ہوتا ہے، اسی طرح یہاں دشواری کے ساتھ آسانی کا پہلو بھی ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں کوئی ناخوشگوار واقعہ کبھی خوش گوار امکانات کو ختم نہ کر سکے۔ ہر ناپسندیدہ صورت حال میں دوبارہ ایک پسندیدہ موقع آدمی کے لیے باقی رہے۔ امکانات کی یہ فہرست اتنی لمبی ہے کہ اس کا سلسلہ سلمان رشدی جیسے نازیبا واقعات تک پہنچ جاتا ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم مدینہ میں سلمان رشدی جیسا ایک برا کر دار موجود تھا۔ یہ عبداللہ بن ابی بن سلول ہے۔ اس ظالم نے ایک بار ایک معمولی واقعہ کو شوشہ بنایا اور اس کے ذریعہ سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر نعوذ باللہ بدکاری کا الزام لگایا۔ یہ جھوٹی کہانی اس طرح پھیلی کہ پورے مدینہ میں ایک مہینہ تک ہنگامی حالت طاری رہی۔ اس کے بعد قرآن میں اس کی تردید اتاری گئی جو سورۃ النور (رکوع (۲) میں موجود ہے۔

ان تردیدی آیات میں جو باتیں کہی گئی ہیں ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ : لا تحسبوه شرا لكم بل هو خير لكم (النور ۱۱) یعنی اے مسلمانو! یہ طوفان جو تمہارے خلاف برپا کیا گیا ہے، اس کو تم اپنے حق میں برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے حق میں اچھا ہے۔ بہتان تراشی کا واقعہ بظاہر "عسر" کا ایک واقعہ تھا۔ مگر قرآن نے بتایا کہ اس میں بھی تمہارے لیے "یسر" کا یقینی پہلو چھپا ہوا ہے۔ اس "یسر" (موافق پہلو) کی بہت سی صورتیں ہیں۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ جب داعی کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے تو اس کی ذات اور اس کی دعوت لوگوں کے درمیان گفتگو کا موضوع بن جاتی ہے ۔ وہ لوگوں کے لیے ایک سوالیہ نشان کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues

Printed page