The Last Temptation of Christ
الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۷
طرح داعی کو موقع ملتا ہے کہ وہ ان جھوٹے پروپیگنڈوں کی تردید کر کے اصل حقیقت کو واضح کرے۔ وہ اپنی بات کو از سر نو مزید وضاحت کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کر سکے۔
اس طرح ایک طرف مخالفین کا برسر باطل ہونا معلوم ہوتا ہے اور دوسری طرف داعی کا برسر حق ہونا اور زیادہ واضح ہو جاتا ہے ۔ وہ اور زیادہ ثابت شدہ حقیقت بن کر سامنے آ جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نئے لوگ دعوت حق سے متعارف ہوتے ہیں۔ اور جو لوگ ابھی تک شبہات کا شکار تھے، وہ اس کے بعد یقین کے درجہ تک پہنچ کر داعی کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ لوگ اپنی آنکھوں سے عیاناً دیکھ لیتے ہیں کہ حق کا داعی ٹھوس حقیقت کی زمین پر کھڑا ہوا ہے۔ اس کے مقابلہ میں مخالفین کا حال یہ ہے کہ ان کے پاس جھوٹے الزام اور بے بنیاد اتہام کے سوا اور کچھ نہیں۔ اصل مسئلہ گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو اس معاملہ میں قابل غور مسئلہ یہ نہیں ہے کہ یہاں رشدی جیسے لوگ ہیں جو اسلام کے خلاف لکھتے اور بولتے ہیں۔ بلکہ اصل قابل غور مسئلہ یہ ہے کہ وہ کون سے حالات ہیں جس نے انہیں یہ موقع دیا ہے کہ وہ اسلام کے خلاف لکھیں اور بولیں۔
اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجئے۔ برطانیہ میں ، اویں صدی سے ایک قانون موجود ہے جو مسیحیت (اینگلیکن چرچ) کے خلاف کفریہ کلمات (Blasphemy) کو قابل سزا جرم قرار دیتا ہے۔ مگر اس تعزیری قانون کے ہوتے ہوئے برطانیہ میں ایک فلم بنائی گئی ہے جو سراسر اس کی منشا کے خلاف ہے ۔ اس فلم کا نام ہے :
The Last Temptation of Christ
اس فلم میں نعوذ باللہ حضرت مسیح علیہ السلام کی جنسی زندگی کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ ان کو اور ان کی والدہ محترمہ (حضرت مریم) کو ایسے انداز میں پیش کیا گیا ہے جس سے ان کے تقدس پر حرف آتا ہے۔ یہ فلم برطانیہ میں کھلے طور پر دکھائی جا رہی ہے مگر مذکورہ قانون کے باوجود اس فلم پر آج تک پابندی نہیں لگائی گئی اور نہ اس کے بنانے والوں کو کوئی سزا دی گئی۔
اب اسی ملک کی ایک برعکس مثال لیجئے ۔ پیٹر رائٹ (Peter Wright) ایک انگریز ہے جو ریٹائر ہونے کے بعد اب آسٹریلیا میں رہتا ہے ۔ وہ برطانیہ کے محکمہ انٹیلیجنس میں ایک اعلیٰ افسر تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues