10 THE TIMES OF INDIA, TUESDAY, JUNE 26, 1984
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۹، صفحہ ۲۵
سجدہ فطرت انسانی کی طلب ہے۔ اس طلب کا حقیقی جواب یہ ہے کہ آدمی اپنے اپنا کو اپنے خالق و مالک کے آگے جھکا دے۔ مگر انسان اپنی بے خبری کی وجہ سے اپنے آپ کو دوسری دوسری چیزوں کے آگے جھکاتا ہے، جو چیز صرف ایک خدا کا حق ہے اس کو وہ غیر خدا کو دے دیتا ہے۔ پہلی تصویر امریکی کھلاڑی کارل لیویس کی ہے۔ لاس اینجلس میں دوڑ کا عالمی مقابلہ ہوا۔ اس میں ۲۲ جون 1984 کو کارل لیو یس نے اعلیٰ کامیابی حاصل کی۔ اس کامیابی کے بعد کارل لیو یس کی ایک تصویر اخبارات میں شائع ہوئی ہے۔ اس تصویر کا عکس ہم مقابل کے صفحہ پر نقل کر رہے ہیں۔ اس تصویر میں کارل لیو یس بالکل سجدہ کی حالت میں دکھائی دے رہا ہے جس پٹری پر دوڑ کر اس نے یہ مقابلہ جیتا تھا، اس پٹری کے لئے اس کے دل میں عقیدت اور احسان مندی کا اتنا شدید جذبہ پیدا ہوا کہ پٹری پر اپنی پیشانی رکھ کر وہ سجدہ میں گر پڑا۔
یہ ایک تازہ مثال ہے جو بتاتی ہے کہ انسانی فطرت میں کس طرح یہ جذبہ چھپا ہوا ہے کہ وہ کسی کو اپنا محسن سمجھے اور اس کے آگے اپنے بڑھے ہوئے جذبات عقیدت کو پیش کر سکے۔
یہ مثال وہ کہتی جب کہ احساس شکر کے تحت آدمی زمین پر گر پڑتا ہے۔ اب دوسری مثال لیجئے جس میں احساس عجز نے انسان کو مجبور کیا کہ وہ زمین پر آپ سر رکھ دے۔ یہ مثال ۲۹ سالہ جان میک انرو کی ہے۔ وہ امریکہ کے رہنے والے ہیں۔ وہ ۱۹۸۱ سے بیڈ منٹن کے عالمی چیمپین تھے۔ 24 جون ۱۹۸۸ء
‹ Previous page Next page › Contents of January 1989 All issues