10 THE TIMES OF INDIA, TUESDAY, JUNE 26, 1984
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۹، صفحہ ۲۶
کو ان کا مقابلہ آسٹریلیا کے ۲۵ سالہ والی ما سور سے لندن میں ہوا۔ اس مقابلہ میں جان میک انرو کو شکست ہوئی۔ ان کی عالمی چیمپئن کی حیثیت ختم ہوگئی (ہندوستان ٹائیمز ۔ ۲۵ جون ۱۹۸۴) جان میک انرو پر اس واقعہ کا زبردست اثر پڑا۔ تاہم انھوں نے اپنی شکست کی ساری ذمہ داری خود قبول کی۔ انھوں نے کہا کہ میں بالکل بنیادی تقاضے بھی پورے نہ کر سکا، اس نے مجھے بیمار بنا دیا :
I couldn't even do the basics. It almost made me sick. اس سلسلہ میں اخبارات میں جو رپورٹ شائع ہوئی ہے ، اس میں جان میک انرو کی ایک تصویر بھی شامل ہے۔ اس تصویر میں سابق چیمپین بالکل سجدہ کی حالت میں زمین پر گرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ دراصل انسانی عجز کا اعتراف ہے۔
یہ دونوں جذبات (احساسِ شکر اور احساس عجز ، انسانی فطرت کے نہایت گہرے جذبات ہیں۔ اس دنیا میں انسان کبھی پاتا ہے اور کبھی کھوتا ہے۔ کبھی کامیاب ہوتا ہے اور کبھی ناکام۔ انسان جب کامیاب ہوتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ اس کامیابی کو کسی کا عطیہ قرار دے کر اس کا شکر ادا کرے ۔ اسی طرح جب وہ ناکام ہوتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ یہاں کوئی اور طاقت ہے جو سب کے اوپر ہے۔ یہ جذبہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس قادر مطلق کے آگے جھک جائے ۔ یہ جذبات انسانی فطرت کے نہایت گہرے جذبات ہیں۔ کوئی بھی انسان ان سے خالی نہیں۔ خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا، امیر ہو یا غریب۔ انسانی فطرت کا علمی مطالعہ کرنے والے ماہرین نے اعتراف کیا ہے کہ یہ جذبات انسانی فطرت میں اس طرح پیوست (Interwoven) ہیں کہ ان کو کسی بھی طرح انسان سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
یہ جذبہ دراصل خدا کی پرستش کا جذبہ ہے۔ اس جذبہ کا مرجع حقیقتِ دہ ہستی ہے جو انسان کی خالق ہے۔ یہ جذبہ اس لئے ہے کہ انسان اپنے خالق و مالک کو پہچانے ، وہ اس کی عظمت کا اعتراف کرے وہ اس کے آگے اپنے آپ کو ڈال دے۔
مگر انسان فطرت کے راستہ سے انحراف کرتا ہے۔ جو چیز خدا کو دینا چاہتے وہ اسے دوسروں کو دیتا
‹ Previous page Next page › Contents of January 1989 All issues