Al-Risala · June 1989 · page 9

جدید اسلامی لٹریچر

الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۹

کرسکے۔ اور اگر بالفرض کوئی شخص اس قسم کی نازیبا حرکت کرے تو اس کی بات ماحول کے اندر اپنے آپ بے وزن ہو کر رہ جائے ۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے آج کوئی شخص جمہوریت (ڈیموکریسی) کے خلاف بولے تو اس کی بات موجودہ ماحول میں اپنے آپ بے وزن ہو کر رہ جائے گی۔

جدید اسلامی لٹریچر

موجودہ زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ سلمان رشدی جیسے لوگ جب کوئی شر پھیلاتے ہیں تو وہ ہمارے لیے صرف شر بن کر رہ جاتا ہے، وہ ہمارے لیے خیر کی صورت اختیار نہیں کرتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے امام اور مفکر ایسے لوگوں کے سامنے اسلام کا جو تعارف پیش کر رہے ہیں، وہ صرف شور و غل ہے، اور شور و غل آج کے انسان کو صرف متنفر کر سکتا ہے۔ وہ کسی بھی درجہ میں اس کو متاثر کر نے والا نہیں۔

ایسے مواقع پر فطری طور پر اسلام کے مطالعہ کی فضا بنتی ہے۔ لوگوں کے اندر اسلام کے بارہ میں تجسس پیدا ہوتا ہے، وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ اسلام کو جاننے کے خواہش مند ہو جاتے ہیں۔ مگر وہ پاتے ہیں کہ موجودہ کتب خانوں میں ایسا لٹریچر موجود نہیں جو ان کی قابل فہم زبان میں اسلام کی اعلیٰ تعلیمات کو پیش کر رہا ہو۔ جس کے اندر اتنی جاذبیت ہو کہ وہ اس کو دلچسپی اور شوق کے ساتھ پڑھ سکیں۔ آج کے انسان کے ارد گرد مخالف اسلام لٹریچر کا انبار موجود ہے، مگر مؤثر اسلوب میں تیار کیا ہوا موافق اسلام لٹریچر کا کہیں وجود نہیں۔

راقم الحروف نے چالیس سال پہلے عصر حاضر کی اس ضرورت کا احساس کیا تھا۔ اس کے مطابق میں نے اسلام کا تفصیلی مطالعہ کیا، اور اسی کے ساتھ جدید علوم کو اس کے مختلف پہلوؤں کے اعتبار سے گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد میں نے عصری تقاضوں کے تحت ایسا اسلامی لٹریچر تیار کرنا شروع کیا جو آج کے انسان کے ذہن پر اسلام کی عظمت قائم کر سکے۔ میری تمام کتابیں کسی نہ کسی پہلو سے اسی خاص موضوع سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس کام میں اگر چہ مجھے ملت کا مطلوبہ تعاون حاصل نہ ہو سکا۔ تاہم اپنی حد تک میں نے اپنی پوری طاقت اسی ایک کام میں لگا رکھی ہے۔ اسی خاص ضرورت کے تحت حال میں، میں نے ایک نئی کتاب مرتب کی ہے جس کا نام ہے ۔ " اسلام دور جدید کا خالق " یہ کتاب ایک سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔ اور عنقریب ان شاء اللہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues

Printed page