Al-Risala · June 1989 · page 26

اسلام قبول کرنے کے بعد

الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۲۶

مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھتا تھا۔ اس کے باوجود اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہلِ بیت کے ساتھ اتنا بڑا بہتان تراشا۔ خود قرآن کی گواہی (النور: ۱۱) کے مطابق، اس معاملے میں عبد اللہ بن ابی سب سے بڑا مجرم تھا۔ قرآن میں اس کے ابلیسی جرم کا اعلان کیا گیا، مگر اس کے لیے کوئی قانونی سزا تجویز نہیں کی گئی۔ اس کی سزا کے معاملے کو تمام تر آخرت پر چھوڑ دیا گیا۔ چنانچہ وہ اس واقعے کے بعد زندہ رہا، یہاں تک کہ مدینہ میں اپنی طبعی موت سے مر کر وہ اپنا حساب دینے کے لیے خدا کے یہاں چلا گیا۔ روایات میں آتا ہے کہ ایک موقع پر حضرت عمر فاروق نے عبد اللہ بن ابی کی بابت کہا کہ اے خدا کے رسول، مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن مار دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو، لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں (صفحہ ۷۰) ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ نے مزید یہ فرمایا کہ ہم اس کے ساتھ نرمی برتیں گے اور بہتر سلوک کریں گے، جب تک وہ ہمارے درمیان رہے (وفی نتفرق به ونحسن صحبته ما بقى معنا، تفسير ابن كثير، الجزء الرابع صفحه ۷)

عبد اللہ بن ابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جو کچھ کیا، وہ آپ کی اور آپ کے اہلِ بیت کی کردار کشی کی بدترین صورت تھی۔ یہ پیغمبر کے خلاف اتنی بڑی مجرمانہ حرکت تھی کہ اس سے بڑی کسی مجرمانہ حرکت کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ مزید یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مدینہ کے حاکم تھے۔ اس اعتبار سے آپ کو عبد اللہ بن ابی کے اوپر کامل قانونی اختیار حاصل تھا۔ اس کے باوجود آپ نے اس کو قتل نہیں کرایا۔ صرف اس کے جرم کا اعلان کر کے اس کو آزاد چھوڑ دیا۔

ایسی حالت میں جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر کے ساتھ گستاخی علی الاطلاق طور پر مستوجب قتل جرم ہے، وہ ایک ایسی بات کہتے ہیں جس کے لیے ان کے پاس قرآن و سنت کی کوئی دلیل موجود نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues

Printed page