Al-Risala · June 1989 · page 25

اسلام قبول کرنے کے بعد

الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۲۵

بٹھادیا۔ حضرت عائشہ اشارہ کو سمجھ کر اونٹ پر سوار ہوگئیں ۔ اس کے بعد وہ اونٹ کی نکیل پکڑ کر تیزی سے آگے کی طرف روانہ ہو گئے ۔

دوپہر کے قریب یہ اونٹ مسلمانوں کے قافلہ سے جا ملا جبکہ وہ اگلے مقام پر ٹھہرا ہوا تھا۔ ابن ابی ملیکہ نے عروہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عائشہ جب اس طرح قافلہ میں پہنچیں تو منافقین کے ایک گروہ نے ان کو دیکھ لیا جو عبد اللہ بن ابی کے ساتھ وہاں بیٹھا ہوا تھا۔ ان کے سردار عبد اللہ بن ابی نے پوچھا کہ یہ کون ہے ۔ لوگوں نے بتایا کہ عائشہ ہیں۔ اس نے کہا کہ خدا کی قسم نہ یہ اس سے بچی ہیں اور نہ وہ ان سے بچا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ تمہارے پیغمبر کی بیوی نے ایک غیر شخص کے ساتھ رات گزاری ، یہاں تک کہ صبح ہو گئی ، اب وہ ان کو لے کر آ رہا ہے۔ (قال عبد الله بن ابی رئيسهم من هذه ۔ قالوا عائشة۔ قال : والله ما نجت منه وما نجامتھا۔ وقال : امرأة نبيكم باتت مع رجل حتى اصبحت ثم جاء يقود بها ، (التفسیر المظهري؛ المجلد السادس، صفحه ۴۴۷) اس کے بعد جب یہ قافلہ مدینہ پہنچا تو عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھی سرگرم ہو گئے ۔ انھوں نے اس معاملہ کو پروپیگنڈہ کا ایشو بنایا اور اس کو بھر پور طور پر آپ کے خلاف استعمال کیا۔ یہاں تک کہ سارے شہر میں ہنگامی حالت پیدا ہو گئی۔ ہر طرف اس کا چرچا تھا، ہر زبان پر اسی کا تذکرہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شدید ذہنی اذیت میں مبتلا تھے ۔ حضرت عائشہ کا یہ حال تھا کہ وہ رات دن روتی رہتی تھیں ۔ اس قصہ کی تفصیلات حدیث اور سیرت کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہیں۔

یہ ہنگامی صورتِ حال ایک مہینہ تک جاری رہی۔ یہاں تک کہ سورہ النور کی آیتیں ۱۱- ۲۱ اتریں ۔ ان آیات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا کہ عائشہ مکمل طور پر معصوم اور بے قصور ہیں ۔ اس معاملہ میں سارا جرم یک طرفہ طور پر عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کا ہے۔ اس طرح یہ سنگین معاملہ براہِ راست خدائی مداخلت کے ذریعہ ختم ہوا۔

عبد اللہ بن ابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا ۔ وہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues

Printed page