Al-Risala · June 1989 · page 35

Am I under arrest?

الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۳۵

کی۔ پولیس افسر مجھ کو لے کر اندر داخل ہوا۔ یہ اس کا دفتر تھا۔ یہاں اس نے مجھے کرسی پر بٹھایا۔ اور مشین پر میرے پاسپورٹ کے ہر صفحہ کا فوٹو لینے لگا۔ یہ منظر دیکھ کر میں نے پولیس افسر سے کہا:

Am I under arrest?

اس نے مسکرا کر کہا کہ نہیں ۔ اب تک ہم دونوں خاموش تھے ۔ اب باتیں ہونے لگیں ۔ میں نے اسلامی مرکز کا تعارف کرایا تو وہ مجھ سے بہت مانوس ہوگیا۔ اس نے اپنا نام مسٹر لوئی (My Louis) بتایا۔ اس پولیس افسر کی کار پر بیٹھے بیٹھے میں نے پہلی بار نیو یارک شہر کی ایک جھلک دیکھی۔ تاہم کسی نامعلوم ہدایت کی بنا پر اس نے میرا پاسپورٹ مجھے نہیں دیا۔ وہ مجھ کو لے کر دوبارہ ایر پورٹ آیا اور خود ہی ایر انڈیا کی پہلی فلائٹ سے میری سیٹ کنفرم کرائی اور مجھ کو ہوائی جہاز کے اندر داخل کرکے بٹھا دیا۔ اس نے کہا کہ آپ کا پاسپورٹ اور دوسرے کاغذات آپ کو پائلٹ کے ذریعہ مل جائیں گے ۔ چنانچہ دوران پرواز مجھے ایک لفافہ دیا گیا جس میں پاسپورٹ وغیرہ موجود تھے۔

امریکہ کے لیے میرا دوسرا سفر نومبر ۱۹۸۵ میں ہوا ۔ اس سفر کی مفصل رو داد الرسالہ مارچ۔ اپریل ۱۹۸۶ میں شائع ہو چکی ہے ۔ امریکہ کا تیسرا سفر موجودہ سفر تھا جو دسمبر ۱۹۸۸ میں ہوا۔ ہوائی سفر کے اعتبار سے ہماری آخری منزل لاس اینجلیز تھی۔ نیو یارک سے لاس اینجلیز تک کا فاصلہ ساڑھے پانچ گھنٹہ میں طے ہوا۔ ایر پورٹ سے جائے قیام دانا ہائہم ، تک ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی کا ساتھ رہا۔ راستہ کی گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد بالکل صحیح طور پر معلوم نہیں ۔ عام اندازہ کے مطابق ۸ ملین سے ۱۰ ملین تک مسلمان امریکہ میں آباد ہیں۔ ان مسلمانوں میں عام طور پر دو قسم کے لوگ ہیں ۔ ایک وہ جو ایسے ملکوں سے آئے ہیں جہاں مسلمانوں کی حکومت ہے ۔ دوسرے ، وہ لوگ جو ایسے ملکوں میں رہتے جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں ، اور اب وہ وہاں سے آکر امریکہ میں آباد ہوئے ہیں ۔ اکثریتی ملکوں کے مسلمانوں میں دینداری نسبتاً بہت کم پائی جاتی ہے ۔ ان کے ملکوں میں دینی کام مثلاً مسجد، مدرسہ وغیرہ) سب حکومت کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس لیے وہ نفسیاتی

‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues

Printed page