Come and tell me after third generation
الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۳۶
طور پر یہ سمجھنے لگے کہ یہ سب حکومت کے کرنے کے کام ہیں۔ چنانچہ امریکہ میں انھوں نے اس سلسلہ میں کچھ یں کیا۔ اس کے برعکس اقلیتی ملکوں کے لوگ اپنے ملک میں خود ہی یہ سب کام کر رہے تھے۔ چنانچہ جب وہ امریکہ (یا دوسرے مغربی ملکوں) میں آئے تو اپنی سابقہ نفسیات کے تحت انھوں نے اس کو خود اپنی ذمہ داری سمجھا کہ وہ اپنے دین کا تحفظ کریں اور مسجد اور مدرسے اور دینی ادارے قائم کریں۔ اس وقت امریکہ میں کثرت سے مدرسے اور اسلامی مراکز قائم ہیں۔ اور یہ زیادہ تر اقلیتی ملکوں کے لوگوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
ڈاکٹر صدیقی۔ نے بتایا کہ تاہم یہاں کا تہذیبی دباؤ بہت سخت ہے۔ بمشکل دس فی صد مسلمان ایسے ہوں گے جو اپنے دین کے لیے واقعتاً فکر مند ہوں۔ ڈاکٹر صدیقی کی گفت گو ایک یہودی سے ہوئی۔ انھوں نے دوران گفت گو کہا کہ مغربی ملکوں میں بھی ہم اسلامی حیثیت سے نہ زندہ رہ سکتے ہیں (we can survive) یہودی نے ان کی بات کو سنا اور پھر بولا کہ تیسری نسل کے بعد آ کر مجھے بتانا :
Come and tell me after third generation
جس ادارہ کی دعوت پر میرا یہ سفر ہوا، اس کے دفاتر گارڈن گروو (Garden Grove) میں واقع ہیں۔ تاہم سیرت کانفرنس کا اہتمام قریب کے شہر انا ہائم (Anaheim) میں کیا گیا تھا۔ یہ امریکہ کا ایک خوبصورت شہر ہے۔ یہاں میرا قیام ہلٹن ہوٹل (Hilton and Towers) کے کمرہ نمبر ۱۲۸-۵ میں تھا۔ مذکورہ ”انٹرنیشنل سیرت کانفرنس" کی کارروائیاں اسی ہوٹل کے ایک بڑے ہال میں انجام پائیں۔
انا ہائم ، کیلی فورنیا میں واقع ہے۔ کیلی فورنیا کے بعض حصے نہایت گرم ہیں۔ مشہور وادی موت (Death Valley) کا تعلق اسی علاقہ سے ہے جو تقریباً ۲۲۵ کلومیٹر لمبی ہے۔ پروفیسر ارونگ (T. V. Irving) کی تحقیق ہے کہ کیلی فورنیا کا لفظ اسپین سے آیا ہے۔ عرب جب اسپین آئے تو وہاں کے کسی گرم مقام کو انھوں نے قلعۃ القرن (تنور کا قلعہ ) کہا۔ یہ لفظ اسپینی لہجہ میں بگڑ کر کیلی فورنیا ہو گیا۔ اس کے بعد جب اسپین کے لوگ امریکہ آئے اور چلتے ہوئے اس مقام پر پہنچے تو یہ مقام انھیں بہت گرم محسوس ہوا۔ چنانچہ اس کا نام
‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues