Al-Risala · June 1989 · page 41

Dawah Activism: The Prophetic Method

الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۴۱

۲۳ دسمبر کی شام کو کانفرنس ہال میں ایک اثر انگیز واقعہ پیش آیا۔ اسی روز میں نے اپنا ۴۵ منٹ کا مقالہ پڑھا تھا۔ جیسے ہی میں نے اپنا مقالہ ختم کیا ۔ سامنے کی نشستوں پر ایک امریکی نوجوان کھڑا ہوگیا ۔ اس نے کہا کہ میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں ۔ اس نوجوان کو اسٹیج پر لایا گیا اور مانک کے پاس کھڑا کر کے اس سے کلمہ پڑھایا گیا۔ اس کے بعد انگریزی میں کلمہ شہادت کی تشریح بتائی گئی ۔

بعد کو اس نوجوان سے میری ملاقات ہوئی ۔ اس نے اپنا نام مير يوسرالو (Mario Serrano) بتایا ۔ اس کی عمر ۲۳ سال تھی ۔ اس نے بطور خود کچھ اسلام کا مطالعہ کیا تھا، مگر اسلام قبول کرنے کی بابت آخری فیصلہ اس نے کانفرنس میں میرا مقالہ سننے کے بعد کیا ۔ اسی طرح امریکہ میں اور پوری دنیا میں ہر روز کچھ نہ کچھ افراد اسلام قبول کرتے رہتے ہیں ۔ مگر یہ اسلام کی اپنی طاقت کے ذریعہ ہورہا ہے، مسلمانوں کے کسی باقاعدہ تبلیغی عمل کا اس میں کوئی حصہ نہیں ۔ ۲۴ دسمبر کی شام کو آخری پروگرام تھا ۔ اس موقع پر امریکن مسلم کمیونٹی کے قائد امام ویلیس (وارث) محمد نے خطاب کیا ۔ وہ باقاعدہ باڈی گارڈ کے ساتھ ہال میں داخل ہوئے ۔ وہ شکاگو سے خاص اسی شرکت کے لیے آئے تھے ۔ انھوں نے اسلامی عبادت کے موضوع پر تقریر کی ۔ انھوں نے کہا کہ اسلام کا مقصد مکمل پریشن ہے ۔ یعنی انسان کو ہر عملی یا فکری بندھن سے آزاد کر کے ایک خدا کا عابد بنانا ۔

آخری تقریر سعودی عرب کے پرنس محمد الفیصل کی تھی ۔ وہ سعودی ایمبیسی (واشنگٹن) میں اسلامک افزرس شعبہ کے چیرمین ہیں۔ مسلم ملکوں میں غالباً سعودی سفارت خانہ پہلا سفارت خانہ ہے جس نے اس قسم کا اسلامی شعبہ بڑے پیمانے پر قائم کیا ہے ۔ پرنس محمد الفیصل نے نہایت

‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues

Printed page