Al-Risala · June 1989 · page 43

أجيالنا المسلمة فى الغرب هل نتركها نهباً للضياع

الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۴۳

مسجدوں میں نہیں جاسکتے۔ چنانچہ وہ اتوار کو اجتماعی طور پر ظہر کی نماز ادا کرتے ہیں " صفحہ 60 امریکہ کے مسلمان مردوں کے بارے میں اس رپورٹ میں جنرلائزیشن سے کام لیا گیا ہے۔ امریکہ کے مسلمان مرد تین قسموں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ایک گروہ وہ ہے جو سرے سے نماز ہی نہیں پڑھتا۔ ایک گروہ اتوار کے دن ظہر کی باجماعت نماز کو جمعہ کے بدل کے طور پر ادا کرتا ہے۔ تیسرا گروہ وہ ہے جو حسب قاعدہ جمعہ کے دن جمعہ کی نماز ادا کرتا ہے ، ۲۳ دسمبر کو میں خود جمعہ کی ایک جماعت میں شریک ہوا۔

جناب صغیر اسلم صاحب کی رہائش گاہ پر ۲۵ دسمبر کو عورتوں اور مردوں کی ایک تعداد جمع ہوئی، یہ زیادہ تر تاجر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔ اس موقع پر آیات اور احادیث کی روشنی میں مفصل خطاب ہوا۔ ۲۷ دسمبر کو نماز عشاء کے بعد اسلامک سوسائٹی کی مسجد میں تیسرا خطاب ہوا۔ اس کا موضوع حقیقت دین تھا۔ پھر ۲۸ دسمبر کی شام کو صغیر اسلم صاحب کی رہائش گاہ پر دوباره اجتماع ہوا۔ اس موقع پر میں نے اسلام میں آخرت کا تصور اور اس کی اہمیت پر ایک تقریر کی۔ ان سب تقریروں کا ٹیپ وہاں کے لوگوں کے پاس موجود ہے۔

29 دسمبر کے اجتماع میں ایک انجینئر صفی الرحمن قریشی (پیدائش ۱۹۵۱) بھی موجود تھے۔ میں نے دیکھا پورے مجمع میں وہ سب سے کم بولنے والے ہیں۔ اجتماع کے دوران وہ مکمل طور پر خاموش رہے۔ بعد کو ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان کی اس خصوصیت کا ذکر کرتے ہوئے ایک حدیث سنائی جس میں بتایا گیا ہے کہ جو شخص چپ رہا ، اس نے نجات پائی (من سکت نجا) میں نے کہا کہ آپ اس حدیث کی تشریح رکن الفاظ میں کریں گے ۔ انھوں نے کہا : " جب میں بول رہا ہوں تو میں سیکھ نہیں رہا ہوں " ان کی یہ مختصر تشریح مجھے بہت پسند آئی۔ ایک مجلس میں دعوتی موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ہفت روزہ الدعوة (ریاض) کے شمارہ ۱۲ ستمبر ۱۹۸۸ میں ایک مضمون شائع ہوا تھا جس کا عنوان یہ تھا کہ کیا ہم مغرب کی مسلم نسلوں کو ضائع ہونے کے لیے چھوڑ دیں :

أجيالنا المسلمة فى الغرب هل نتركها نهباً للضياع

مضمون میں بتایا گیا تھا کہ اس وقت مغربی دنیا میں جو مسلمان آباد ہیں ، ان کی تعداد دس ملین

‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues

Printed page