أجيالنا المسلمة فى الغرب هل نتركها نهباً للضياع
الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۴۶
مگر مسلمانوں کے اندر نہ پہلے عمل کے لیے کوئی حقیقی جذبہ ہے اور نہ دوسرے عمل کے لیے۔ وہ چاہتے ہیں کہ خود تو اپنی ساری طاقت اپنا ذاتی مستقبل بنانے میں لگائے رہیں، اور دوسرے لوگ آکر ان کا مل مستقبل بنادیں، مگر اس دنیا میں ایسا واقعہ کبھی ظاہر ہونے والا نہیں۔
مسلمانوں کی ایک مجلس میں امریکہ میں رہنے والے ہندوؤں کا ذکر آیا۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا کہ وہ لوگ تو رات دن بس ڈالر کمانے میں لگے رہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ بھی تو یہاں یہی کر رہے ہیں۔ دونوں میں صرف نام کا فرق ہے۔ ہندو کے نزدیک " ڈالر " اگر مذہبی دیو تا ہے تو آپ کے یہاں ڈالر زندگی کا مقصد ۔
ڈاکٹر رالف سسن (Dr Ralph R. Sisson) اسٹیٹ یونیورسٹی آف نیویارک میں کمیونی کیشن کے پروفیسر ہیں۔ پیدائشی طور پر وہ عیسائی ہیں اور امریکہ کی سفید فام نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان سے میں نے ایک ملاقات میں پوچھا کہ امریکہ میں یہودی صرف ۳ فی صد ہیں، اس کے باوجود وہ یہاں چھائے ہوئے ہیں۔ ان کی اس غیر معمولی کامیابی کا راز کیا ہے۔ انھوں نے فوراً کہا کہ ہارڈ ورک (سخت محنت) اس کے برعکس یہی سوال کسی مسلمان سے کیجیے تو بلا تامل اس کا جواب ہوگا کانپریسٹی (سازش)
موجودہ زمانہ کے مسلمان دوسری قوموں کے بارہ میں نفرت میں مبتلا ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دوسری قوموں کے بارہ میں صحیح رائے قائم نہیں کر پاتے۔ مذکورہ امریکی پروفیسر اس نفسیاتی پیچیدگی سے خالی تھا۔ اس نے محبت اور نفرت سے اوپر اٹھ کر سوچا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صحیح رائے قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔
موجودہ زمانہ کے مسلمان لکھنے والوں نے امریکی یہودیوں کے بارہ میں بے شمار کتابیں اور مضامین شائع کیے ہیں جن میں جوش و خروش کے ساتھ یہودی سازشوں کا انکشاف کیا جاتا ہے۔ مگر یہ تمام تحریریں بالکل سطحی ہیں۔ وہ اپنے قاری کو اصل حقیقت سے باخبر نہیں کر تیں۔ امریکہ کے موجودہ سفر میں میں نے جو نئی باتیں دریافت کیں، ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ امریکی یہودیوں کی طاقت کا اصل راز ان کی تنظیم ہے۔ انسائیکلو پیڈیا بر ٹانیکا (۱۹۸۴) نے امریکہ میں یہودیوں کی تعداد ۵ لاکھ بتائی ہے ۔ اس قلت تعداد کے باوجود، انھوں نے اپنے تمام
‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues