Al-Risala · June 1989 · page 47

أجيالنا المسلمة فى الغرب هل نتركها نهباً للضياع

الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۴۷

قابل ووٹ افراد کو ووٹر لسٹ میں درج کرا رکھا ہے ۔ ہر الیکشن میں ان کے بیشتر افراد ووٹ دیتے ہیں اور ہمیشہ متحدہ طور پر اپنے ووٹوں کا استعمال کرتے ہیں ۔ ان کے تمام ادارے شیرازہ کی طرح باہم مربوط ہیں ۔ اپنے قومی مقاصد کے لیے وہ بے دریغ دولت خرچ کرتے ہیں ۔ ان میں انفرادی سطح پر اختلافات ہیں، مگر قومی نوعیت کے معاملہ میں وہ ہمیشہ متحد رہتے ہیں ۔ وہ ارباب کار سے مسلسل ربط رکھتے ہیں اور ان کی رائے کو اپنے حق میں متاثر کرنے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں ۔ وہ ہر کام منظم انداز میں کرتے ہیں نہ کہ اس طرح منفرد انداز میں جس کا ہمارے یہاں عام رواج ہے ۔

امریکی مسلمانوں کی مجموعی تعداد ۸ سے ۱۰ ملین تک ہے ۔ جب کہ یہودیوں کی موجودہ تعداد زیادہ سے زیادہ 6 ملین قرار دی جاسکتی ہے ۔ مگر مسلمان ہر معاملہ میں یہودیوں کے بالکل برعکس ہیں ۔ ان کے درمیان کوئی ملک گیر تنظیم نہیں ۔ ان کے بے شمار ادارے ہیں ، مگر سب کے سب آزاد ادارہ کے طور پر کام کرتے ہیں ۔ ان کے ووٹ یہودیوں سے زیادہ ہیں مگر سیاسی بے شعوری کی بنا پر اب تک وہ اپنے ووٹ کی طاقت کو استعمال نہ کرسکے ۔ امریکی مسلمانوں کا نقطہ نظر ایک لفظ میں یہ ہے کہ ____ زیادہ سے زیادہ ڈالر کماؤ ، اور بقیہ ہر چیز سے غیر متعلق رہو۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی یہودیوں کا متحد اور منظم ہونا ان کی اصل طاقت ہے ، اور امریکی مسلمانوں کا غیر متحد اور غیر منظم ہونا ان کی اصل کمزوری ۔ جو لوگ اس راز کو نہ جانیں وہ امریکی زندگی کی الف ب بھی نہیں جانتے ۔

آخری اجتماع (6 ۲ دسمبر) میں اسلامک سوسائٹی (گارڈن گروو) کے لیے تعاون کی اپیل کی گئی ۔ لوگوں نے ڈالر کی صورت میں اپنے عطیات دینے شروع کیے ۔ اسٹیج کے پاس ایک بلیک بورڈ رکھا ہوا تھا ۔ اس پر جلی حرفوں میں مسلسل رقم کی مقدار لکھی جارہی تھی ۔ ______ ایک ہزار ڈالر ، ۲۰۰ ہزار ڈالر ، ۳۵ ہزار ڈالر ، اس طرح گنتی بڑھتے بڑھتے تقریباً ۶۰ ہزار ڈالر تک پہنچ گئی ۔ پورا مجمع بیک وقت بلیک بورڈ پر عطیات کی مقدار دیکھ رہا تھا ۔ یہ گویا چندہ کے قدیم طریقہ کو ماڈرنائز کرنا ہے ۔ مجھے یہ طریقہ پسند آیا ۔

گارڈن گروو (Garden Grove) امریکہ کا ایک شہر ہے جو لاس اینجلس کے قریب

‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues

Printed page