Al-Risala · July 1989 · page 6

He came, he saw, he conquered.

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۹، صفحہ ۶

یہ روایت اگرچہ باعتبار سند کمزور ہے، مگر باعتبار معنی وہ درست ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کا چہرہ ساری معلوم کائنات میں سب سے زیادہ پر شوکت چیز ہے۔ وہ اپنے اندر ایک بڑے عظمت لیے ہوئے ہے۔

خدا نے آپ کے چہرہ اور آپ کی شخصیت کو آپ کے لیے ایک غیر مفتوح ڈھال بنایا ہے۔ آپ ہر ضرورت کے موقع پر اسے استعمال کر سکتے ہیں۔ مگر اس معاملہ میں آپ کی کامیابی کا سارا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ نے دوسروں کی نظر میں اپنی کیا تصویر بنائی ہے۔ اگر آپ نے اپنے ماحول میں اپنی یہ تصویر بنائی ہو کہ آپ ایک سطحی اور بے قیمت انسان ہیں، آپ صرف جھوٹی لڑائی لڑنا جانتے ہیں۔ آپ اقدام کا نعرہ لگاتے ہیں اور دھمکی سن کر اقدام ملتوی کر دیتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب آپ دوسروں کے سامنے آئیں گے تو آپ کا آنا ایک بے وزن انسان کا آنا ہوگا۔ اس وقت آپ گویا ایک ٹوٹی ہوئی ڈھال ہوں گے جس کے اندر لوگوں کے لیے کوئی زور نہیں ۔

اس کے برعکس اگر آپ نے اپنے آس پاس اپنی یہ تصویر بنائی ہے کہ آپ ایک بھاری بھرکم انسان ہیں۔ آپ کے اعلیٰ اخلاق نے لوگوں کو آپ کا معترف بنا رکھا ہو۔ ایسی حالت میں آپ کے سامنے آتے ہی لوگوں کی نظریں آپ کے لیے جھک جائیں گی۔ آپ کا آنا " وہ آیا ، اس نے دیکھا، اس نے فتح کر لیا " کا ہم معنی بن جائے گا :

He came, he saw, he conquered.

آپ کا انسانی چہرہ آپ کے حق میں ایک مرعوب کن ڈھال ہے۔ کوئی انسان آپ کے اوپر صرف اس وقت وار کرنے کی ہمت کرتا ہے جب کہ آپ اپنی کسی نادانی سے اس پر یہ ظاہر کر دیں کہ آپ اس سے کمزور ہیں۔ دانش مندی کے ذریعہ اپنے رعب انسانی کو قائم رکھیے، اور پھر کوئی شخص آپ کے اوپر وار کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1989 All issues

Printed page