Al-Risala · July 1989 · page 7

قضا و قدر

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۹، صفحہ ۷

قضا و قدر

مارک ٹوین (Mark Twain) ایک انگریزی ادیب اور ناول نگار تھا۔ وہ ۱۸۳۵ء میں امریکہ میں پیدا ہوا۔ اور وہیں ۱۹۱۰ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے اپنی آخر عمر میں ایک بار کہا کہ اب میں ایک بوڑھا آدمی ہوں ۔ اور اپنی زندگی میں بہت سی چیزوں کے لیے فکر مند ہوا ہوں۔ مگر ان میں سے زیادہ تر کبھی وقوع میں نہیں آئیں :

I am an old man and have known a great many troubles, but most of them never happened. راقم الحروف کا تجربہ بھی یہی ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں اور دوسروں کی زندگی میں بہت سے ایسے مواقع دیکھے ہیں جب کہ ایک آدمی کسی صورت حال کے پیش آنے کی وجہ سے سخت پریشان ہو گیا۔ حتیٰ کہ مستقبل کے اندیشہ کی بنا پر اس نے اپنے حال کو برباد کر لیا ۔ غم سے نڈھال ہو کر اپنی صحت تباہ کر لی۔ مگر وقت گزرنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ اندیشہ بجائے خود صحیح نہ تھا جس کی وجہ سے آدمی نے اپنے آپ کو اتنا زیادہ پریشانی میں مبتلا کیا تھا ۔

اسلام میں اس کا بہترین حل قضا و قدر کا عقیدہ ہے۔ مفصل کلمہ میں یہ بات بطور ایمان شامل کی گئی ہے کہ خیر اور شر دونوں اللہ کی طرف سے آتے ہیں ( و بالقدر خیرہ و شرہ ) " کوشش کرنا بندہ کا کام ہے ، اور تکمیل تک پہنچانا اللہ کا کام " اور یہ کہ " جو کچھ ہوتا ہے ، اللہ کی طرف سے ہوتا ہے " یہ عقیدہ انسان کے لیے موجودہ دنیا میں ایک بے حد عظیم تحفہ ہے ۔ وہ انسان کے اندر یہ طاقت پیدا کرتا ہے کہ وہ نقصان کو سہے اور حادثات کو برداشت کر سکے ۔ موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے تحت بنی ہے۔ اس لیے یہاں عین اس کے تخلیقی نقشہ کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کی زندگی میں ناموافق حالات پیش آتے ہیں ۔ اس کو نقصان سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔ ایسی حالت میں اگر یہ عقیدہ آدمی کے اندر بیٹھ جائے کہ جو ہواوہی ہونے والا تھا ، اس کے سوا کچھ اور ہونا ممکن نہ تھا تو آدمی کی زندگی نہایت سکون کی زندگی بن جائے ، وہ راضی برضا ہو کر ہرحال میں پوری طرح مطمئن رہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1989 All issues

Printed page