اعتراف حقیقت
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۹، صفحہ ۹
اعتراف حقیقت
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عرب میں ایک شخص تھا۔ اس کا نام امیہ ابن ابی الصلت تھا۔ وہ طائف کے قبیلہ ثقیف سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ نہایت ہوشیار اور صاحب شخصیت آدمی تھا۔ اس کے ساتھ وہ عالم بھی تھا۔ اس کو یہود کی کتابوں کے ذریعہ یہ معلوم ہوا کہ عرب میں خدا کا آخری پیغمبر آنے والا ہے۔ اس کو اپنی بڑائی کا اتنا زیادہ احساس تھا کہ اس نے بطور خود یہ سمجھ لیا کہ خدا اس کو اپنا پیغمبر مقر رکرے گا۔ جب اس کو معلوم ہوا کہ یہ مقام محمد بن عبداللہ کو دیدیا گیا ہے تو اس پر سخت رد عمل ہوا۔ وہ آپ کا مخالف بن کر کھڑا ہو گیا ۔
اس عرب کردار کا ذکر قرآن میں اس طرح آیا ہے اور لوگوں کو اس شخص کا حال سناؤ جس کو ہم نے اپنی نشانیاں دی تھیں ، پھر وہ اس سے نکل بھاگا۔ پس شیطان اس کے پیچھے لگ گیا۔ اور وہ گمراہوں میں سے ہو گیا۔ اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان نشانیوں کے ذریعہ اونچا کر دیتے، مگر وہ زمین کا ہو رہا اور وہ اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے لگا (الاعراف ۱۷۵-۱۷۶)
امیہ ابن ابی الصلت کے لیے اللہ نے یہ مقدر کیا تھا کہ وہ وقت کے پیغمبر کا پیرو بن کر رفعت حاصل کرے۔ مگر اس نے خود پیغمبر بننا چاہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ پست اور ذلیل ہو کر رہ گیا۔ اس کے برعکس مثال مکہ کے عمر بن الخطاب کی ہے۔ ان کو بھی پیدائشی طور پر غیر معمولی صلاحیتیں ملی تھیں۔ مگر انھوں نے اس خبط کو اپنے دماغ میں جگہ نہیں دی کہ وہ خود پیغمبر بنیں۔ اس کے بجائے وہ پیغمبر کے پیرو بننے پر راضی ہو گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اسلام کی تاریخ میں، پیغمبر اور ابو بکر صدیق کے بعد تیسری سب سے بڑی شخصیت قرار پائے۔ اس کے علاوہ عالمی تاریخ میں ان کو اتنا ممتاز مقام ملا کہ ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے اپنی کتاب (100 The) میں دنیا کے بڑوں کی فہرست میں ان کو نمبر ۵ پر جگہ دی ہے۔ جب کہ امیہ بن ابی الصلت کو کہیں کوئی جگہ نہ مل سکی۔
انسان اکثر حالات میں اپنا مبالغہ آمیز اندازہ کرتا ہے۔ وہ پیرو کا کردار ادا کرنے کے بجائے قائد کا کردار ادا کرنے کا خواہش مند بن جاتا ہے۔ یہ طریقہ خدا کے منصوبے کے خلاف ہے، اور خدا کے منصوبے کے خلاف چلنا کسی آدمی کو بربادی کے سوا اور کہیں نہیں پہنچاتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1989 All issues