Al-Risala · July 1989 · page 10

اسوہ نبوت

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۹، صفحہ ۱۰

اسوہ نبوت

سلمان رشدی کی کتاب (شیطانی آیات) میں نے خود پڑھی ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ یہ ایک انتہائی لغو کتاب ہے۔ اس کتاب کی لغویت کے بارہ میں میری وہی رائے ہے جو دوسروں کی رائے ہے۔ مگر اس کتاب کے بارہ میں مسلمانوں کا رد عمل کیا ہونا چاہیے، اس سلسلہ میں میری رائے ان لوگوں سے مختلف ہے جو یہ نعرہ لگا رہے ہیں کہ رشدی کو قتل کر کے اسے جہنم رسید کرو۔

سلمان رشدی نے اپنی کتاب میں جو کچھ کہا ہے، وہ کوئی نئی بات نہیں۔ یہ تمام باتیں نہ صرف پچھلے ہزار سال سے کسی نہ کسی شکل میں کہی جاتی رہی ہیں، بلکہ یہ خود اس زمانہ میں بھی کہی گئی تھیں جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں موجود تھے۔ اس وقت آپ نے ایسے لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا، اس کو معلوم کر کے ہم یہ طے کر سکتے ہیں کہ اسی قسم کے موجودہ واقعہ میں ہم کیا طرزِ عمل اختیار کریں۔ اس معاملہ میں کسی اجتہاد یا قیاس کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ پیغمبر اسلام کا اسوہ (نمونہ) واضح طور پر ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہے۔

چند مثالیں

۱۔ سلمان رشدی کی کتاب میں ایک بات نعوذ باللہ یہ کہی گئی ہے کہ قرآن میں جبریل کی لائی ہوئی آیتوں کے ساتھ شیطان کی القاء کی ہوئی آیتیں بھی شامل تھیں۔ اسی بنا پر اس نے اپنی کتاب کا نام "شیطانی آیات" رکھا ہے۔ یہ نام زیادہ صحیح طور پر خود رشدی کی کتاب پر صادق آتا ہے۔ تاہم اس نے اپنے خیال کے مطابق، یہ نام قرآن کو دینا چاہا ہے۔ سلمان رشدی نے اپنا یہ نظریہ اس قصہ کی بنیاد پر کھڑا کیا ہے جس کو غر انیق کا قصہ کہا جاتا ہے۔ یہ قصہ، جس کی تفصیل دوسرے مضمون میں بتائی گئی ہے، اس وقت گھڑا گیا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے اس لغو قصہ کے ابتدائی مصنف مکہ کے مشرکین تھے۔ مکہ فتح ہوا تو ان مشرکوں کے اوپر آپ کو مکمل قابو حاصل ہو گیا۔ مگر آپ نے یہ

‹ Previous page Next page › Contents of July 1989 All issues

Printed page