الـرسـالـه جـولائی ۱۹۸۹ ۱۳
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۹، صفحہ ۱۳
شوشہ بنا کر مدینہ کے کچھ منافقین نے یہ جھوٹا افسانہ گھڑا۔ اور اس کی بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذارسانی کی۔
یہ افسانہ اس وقت اتنا زیادہ پھیلایا گیا کہ کئی مخلص مسلمان تک اس سے متاثر ہو گئے۔ ایک مہینہ تک مدینہ کی پوری فضا شرمناک افواہوں سے بھری رہی۔ یہ تکلیف دہ صورتِ حال صرف اس وقت ختم ہوئی جب کہ خود اللہ تعالیٰ نے مداخلت فرمائی۔ اور قرآن میں یہ اعلان کیا گیا کہ یہ افسانہ سراسر بے بنیاد ہے۔ وہ محض جھوٹا پروپیگنڈہ ہے نہ کہ کوئی واقعی حقیقت۔ مگر اس وقت بھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام لوگوں کے قتل کا حکم دے دیں جو کردار کشی کی اس جھوٹی مہم میں ملوث تھے۔ کچھ صحابہ نے ایسے افراد کو قتل کرنے کی پیش کش کی۔ مگر آپ نے اس پیش کش کو قبول نہیں فرمایا۔ امہات المومنین کی کردار کشی کے ان مجرمین کو زندہ چھوڑ دیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ مدینہ میں اپنی طبعی موت مرے۔ اور اللہ تعالیٰ کے یہاں اپنے آخری حساب کے لیے پہنچا دیے گئے۔
اس واقعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو اسوہ سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ الزام کی طاقتور تردید کر کے مجرمین کو چھوڑ دیا جائے تاکہ لوگ ساری عمر ان کی لعنت کریں، اور پھر مر کر وہ اللہ کی عدالت میں پہنچا دیے جائیں تاکہ وہ اپنے خلاف ابدی لعنت کا فیصلہ سنیں اور ہمیشہ کے لیے رسوائی کے گڑھے میں پڑے رہیں۔
یہ ہے اس طرح کے معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ۔ اب اگر مسلمان یہ کہتے ہیں کہ سلمان رشدی کی کتاب سے ہمارے جذبات مجروح ہوئے ہیں، اور ہم تو اس کو قتل کر کے رہیں گے، تو میں کہوں گا کہ "مسلمانوں کے جذبات کا مجروح ہونا" اسلام کے قانونِ جرائم کی کوئی دفعہ نہیں ہے۔ مسلمان اگر اس قسم کی کارروائی کرنا چاہتے ہیں تو وہ اس کو اپنی قومی سرکشی کے نام پر کر سکتے ہیں۔ مگر اسلام کے نام پر انہیں ایسا کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اگر وہ اسلام کے نام پر اس قسم کا فعل کریں تو انہیں ڈرنا چاہیے کہ ایک مجرم کو سزا دینے کی کوشش میں وہ خود اپنے آپ کو اللہ کی نظر میں زیادہ بڑا مجرم نہ بنالییں۔
الـرسـالـه جـولائی ۱۹۸۹ ۱۳
‹ Previous page Next page › Contents of July 1989 All issues