Al-Risala · July 1989 · page 12

مذممّاً عصینا، و امره ابینا، و دینه قلیینا

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۹، صفحہ ۱۲

برعکس جو ہوا، وہ تاریخ کے الفاظ میں یہ ہے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بگاڑ کر آپ کا نام مذمم رکھتے تھے۔ اور پھر اسی نام سے آپ کو گالی دیتے تھے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ یہ فرماتے تھے کہ کیا تم لوگوں کو اس بات سے تعجب نہیں ہوتا جو اللہ نے قریش کی ایذارسانی کو مجھ سے پھیر دیا۔ وہ مجھ کو گالی دیتے ہیں اور مذمم کہہ کر میری ہجو کرتے ہیں۔ حالانکہ میں محمد (تعریف کیا ہوا) ہوں۔

قال ابن اسحاق۔ وكانت قريش انما تسمى رسول الله صلى الله عليه وسلم مذمماثم يسبونه ـ فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : الاتعجبون لماصرف الله عنى من اذى قريش يسبون ويهجون مذمما وانا محمد (سیرة ابن هشام، الجزء الاول، صفحه ۳۷۹)

یہاں دوبارہ دیکھئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بگاڑ کر آپ کو اذیت پہنچائی جاتی ہے۔ مگر آپ اپنے اصحاب سے یہ نہیں کہتے کہ یہ لوگ ناقابل معافی جرم کے مجرم ہیں، ان سب کو ایک ایک کر کے قتل کر دو۔ اس کے برعکس آپ اپنے اصحاب کی توجہ قولِ انسانی سے ہٹا کر قولِ خداوندی کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ انسان اگر میری مذمت کرتے ہیں اور میرا سب وشتم کر رہے ہیں تو اس سے کیا ہوا۔ تمام انسانوں کے رب اور ساری کائنات کے مالک نے ابدی طور پر مجھے محمد کے مقامِ اعلیٰ پر فائز کر دیا ہے۔ پھر ان کی بے ہودہ گوئی کی پروا کرنے کی مجھے کیا ضرورت۔

۳۔ سلمان رشدی نے اپنی کتاب میں ایک اور نہایت بے ہودہ حرکت یہ کی ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ کو نعوذ باللہ ایک بدکردار خاتون کے روپ میں دکھایا ہے ۔ یہ بلاشبہ اشتعال انگیز حد تک ایک بے ہودہ بات ہے۔ کوئی مسلمان کتاب کے اس حصہ کو ٹھنڈے ذہن کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا۔

مگر یہاں بھی قابل لحاظ بات یہ ہے کہ امهات المومنین کی کردار کشی کا یہ جرم پہلی بار رشدی کی کتاب میں نہیں کیا گیا ہے بلکہ یہ شنیع جرم اس سے پہلے خود زمانہ رسالت میں کیا جا چکا ہے۔ دوسرے مضمون میں ہم نے تفصیل کے ساتھ لکھا ہے کہ کس طرح صفوان بن معطل کے ایک واقعہ کو الارسال جولائی ۱۹۸۹

‹ Previous page Next page › Contents of July 1989 All issues

Printed page