جدید انسان
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۹، صفحہ ۳۱
جدید انسان
امریکہ کے ایک کرور پتی کے بارہ میں ایک خبر پڑھی۔ خبر کا عنوان تھا اکتا کر جان دیدی (Bored To Death) اس عنوان کے نیچے خبر کے الفاظ یہ تھے :
The millionaire was tired, weary and bored. He called for his Lincoln continental limousine, got in, and said to the chauffeur : “James, drive full speed over the cliff. I've decided to commit suicide.”
کرورپتی تھکا ہوا تھا۔ وہ افسردہ اور اکتا یا ہوا تھا۔ اس نے اپنی قیمتی کارمنگوائی۔ اس کے اندر بیٹھا۔ اور شوفرسے کہا: "جیمز ڈھلوان کے اوپر پوری رفتار سے گاڑی دوڑاؤ۔ میں نے خودکشی کرنے کا فیصلہ کیا ہے (ٹائمز آف انڈیا ۲۶ فروری ۱۹۸۵)
جن لوگوں کے پاس پیسہ کم ہو وہ بہت سے مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔ وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ مسائل وہی ہیں جو پیسہ کی کمی سے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ان کے پاس پیسہ زیادہ آجائے تو ان کے تمام مسائل ختم ہو جائیں گے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جس طرح پیسہ کی کمی کے مسائل ہیں اسی طرح پیسہ کی زیادتی کے بھی مسائل ہیں۔ جس شخص کے پاس پیسہ کی افراط ہو جائے اس کے پاس مسائل کی بھی افراط ہو جاتی ہے حتی کہ اس کو سکون کے ساتھ رات کے وقت سونا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ اس دنیا میں پرسکون زندگی کا راز صرف ایک ہے۔ اور وہ وہی ہے جس کو مذہب کی زبان میں قناعت کہا جاتا ہے یعنی جو کچھ خدا نے دیا ہے اس پر صابر و شاکر رہنا۔ عدم اطمینان در اصل عدم قناعت کی نفسیاتی قیمت ہے، جو ہر اس آدمی کو بھگتنی پڑتی ہے جو خدا کی تقسیم پر راضی نہ ہو۔ عام انسان صرف یہ جانتا ہے کہ اس کا مصرف یہ ہے کہ وہ دولت کمائے۔ حالانکہ اگر دولت کمانا سب کچھ ہو تو دولت مند آدمی کبھی کسی مسئلہ سے دوچار نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ دولت حاصل کرنے سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ زندگی کا علم حاصل کیا جائے۔ آدمی کو جینا آجائے تو وہ ہر حال میں سکون کے ساتھ جی سکتا ہے خواہ اس کے پاس کم پیسہ ہو یا زیادہ پیسہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1989 All issues