مٹانے کے بعد بھی
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۹، صفحہ ۳۲
مٹانے کے بعد بھی
9 ستمبر 1988 کو نئی دہلی میں اخبار نیشنل ہیرالڈ کی گولڈن جوبلی کی تقریب تھی۔ اس موقع پر وزیر اعظم راجیو گاندھی نے ایک تقریر کی ۔ چوں کہ انھیں دنوں ملک میں ہتک عزت بل کے خلاف ایجی ٹیشن چل رہا تھا ، کچھ لوگ مذکورہ تقریب میں بھی پہنچ گئے اور وہاں انھوں نے ہتک عزت بل کے خلاف نعرے لگائے ، کیوں کہ وہ لوگ اس بل کو پریس کی آزادی ختم کرنے کے ہم معنی سمجھتے ہیں۔
اسی دن شام کو دوردرشن (T.V) پر حسب معمول وزیر اعظم کی باتصویر خبر نشر کی گئی ۔ اس نشریہ کے دوران مظاہرہ کرنے والوں کی تصویریں اور ان کے نعرے بھی دور درشن دیکھنے والوں کے سامنے آگئے۔ یہ وزیر اعظم کے لئے ناقابل برداشت تھا۔ چنانچہ 12ستمبر کو ایک سرکاری حکم جاری کیا گیا جس کے تحت دور درشن کے کیمرہ یونٹ کے تین آدمی رمن موہن سنگھ ، جیون ڈوگرہ ، ڈی کے ڈے زیر عتاب آگئے۔ اول الذکر دو کو حبے پور بھیج دیا گیا اور تیسرے صاحب کا شعبہ تبدیل کر دیا گیا۔
ٹائمز آف انڈیا (15 ستمبر 1988) کے مطابق ، وزیر اعظم کے دفتر کی طرف سے یہ سخت اقدام اس واقعہ کی بنا پر کیا گیا کہ دور درشن میں ہتک عزت بل کے خلاف نعرے سنائی دے رہے تھے : ... the Anti-Defamation Bill slogans were heard over Doordarshan. ایک شخص جس کو صرف ”ٹیلی وژن “ کی آوازوں اور تصویروں کا علم ہو، وہ وہی کرے گا جو وزیر اعظم نے کیا۔ مگر جو شخص اس حقیقت کو جانے کہ ہر انسانی آواز ٹیلی وژن پر ریکارڈ ہونے سے پہلے خدا کے کائناتی ریکارڈ پر ثبت ہو چکی ہے ، وہ اس قسم کی کارروائی کو طفلانہ سمجھے گا ، کیونکہ ٹیلی وژن ریکارڈ پر مٹانے کے بعد بھی اس کا علم کہے گا _________ نعروں کی آواز تو اب بھی سنائی دے رہی ہے۔ ٹی وی کی فلم سے تصویروں کو مٹانے کا کیا فائدہ ، کائنات کی وسیع تر فلم پر تو تمام تصویریں بدستور موجود ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1989 All issues