پیغمبر کا طریقہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۹، صفحہ ۱۷
پیغمبر کا طریقہ
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام اور دوسرے پیغمبروں کا استقبال ان کی قوموں نے بہت برے انداز سے کیا۔ انھوں نے ان کا مذاق اُڑایا۔ ان کی تحقیر و تذلیل کی۔ ان کے اوپر جھوٹے الزامات لگائے، وغیرہ۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا کہ اس قسم کے مجرمین کو گردن زدنی قرار دے کر فوراً انہیں قتل کر دیا جائے۔ بلکہ دلیل کے ذریعہ ان کی بات کی کاٹ کی گئی۔ مثال کے طور پر اس سلسلہ میں ایک آیت یہ ہے۔
ويقولون انه لمجنون - وماهو اور وہ کہتے ہیں کہ یہ شخص ضرور دیوانہ ہے۔ حالانکہ الا ذكر للعالمين (القلم ۵۱ - ۵۲) وہ صرف نصیحت ہے سارے عالم والوں کے لیے۔ ان آیات پر غور کیجئے۔ یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ یہ لوگ خدا کے پیغمبر کو مجنون کہتے ہیں، اس لیے انہیں فوراً قتل کر دو۔ بلکہ دلیل کی زبان میں ان کی بات کو رد کیا گیا۔ اس آیت کا مطلب، دوسرے لفظوں میں، یہ ہے کہ اے پیغمبر کو مجنون کہنے والو! پیغمبر کے کلام کو دیکھو۔ کیا مجنون کا کلام ایسا ہی ہوتا ہے۔ جس قرآن کو وہ تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے، وہ سراپا نصیحت ہے۔ اس میں ساری انسانیت کے لیے بہترین پیغام ہے۔
کیا کوئی جنون والا آدمی ایسی کتاب لاسکتا ہے جس میں اتنی اعلیٰ تعلیمات درج ہوں۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں یہی طریقہ اختیار فرمایا۔ آپ نے، ہجو اور استہزا کے مواقع پر یا تو صبر کیا، یا دلیل کی زبان میں ان کا رد کیا۔
آپ قاتلِ عالم نہیں تھے بلکہ رحمتِ عالم تھے۔ اور رحمتِ عالم وہی شخص ہو سکتا ہے جو لوگوں کی ایذارسانی کے باوجود انہیں معاف کرے، جو لوگوں کی طرف سے اشتعال انگیز سلوک کے باوجود ان کے لیے رحمت کا پیکر بنا رہے۔ آپ کی یہی بلند کرداری ہے جس کی شہادت قرآن میں ان لفظوں میں دی گئی ہے: انك لعلى خلق عَظِيْمٍ (بے شک تم بلند اخلاق پر ہو)
دعوتی تصویر
اسلام ایک دعوت ہے نہ کہ محض ایک تعزیری قانون۔ اسلام کی اولین دلچسپی خدا کے بندوں
‹ Previous page Next page › Contents of July 1989 All issues