بد نامی سے بچت
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۹، صفحہ ۱۸
کو خدا کا پرستار بنانا ہے نہ کہ انہیں مجرم قرار دے کر انہیں کوڑا مارنا اور گولی اور پھانسی کا نشانہ بنانا۔ تعزیری قانون کو اس سے دلچسپی نہیں ہوتی کہ لوگ اس کے بارہ میں کیا رائے قائم کریں گے۔ مگر دعوت کا مزاج اس کے بالکل برعکس ہے۔ داعی لوگوں کو ختم کرنے کے بجائے لوگوں کو اپنے اندر ضم کرنا چاہتا ہے۔ اس لیے داعی ایسا نہیں کرتا کہ لوگوں کے خلاف اندھا دھند سزائیں جاری کرنا شروع کر دے۔ وہ یک طرفہ طور پر صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ وہ انسان کے ”حال“ سے زیادہ انسان کے ”مستقبل“ پر نظر رکھتا ہے۔ وہ لوگوں کو معاف کرتا ہے تاکہ لوگوں کے اندر اس کے بارہ میں نرم گوشہ پیدا ہو، وہ لوگوں کے ساتھ خیر خواہی کا انداز اختیار کرتا ہے تاکہ جو لوگ آج اس کے ہجو گو ہیں، کل وہ اس کے مدح خواں بن جائیں۔ جو لوگ ابھی اس کے ساتھی نہیں بنے، آئندہ وہ اس کے شریک اور ساتھی بن جائیں۔ داعی کا کام غیر کو اپنا بنانا ہے، نہ کہ جو غیر دکھائی دے اس کا دشمن بن کر صرف اس کی ہلاکت کے درپے ہو جانا۔
بد نامی سے بچت
کسی کارخانہ کی خوش نامی اس کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ اسی طرح اسلام کی اشاعت کے لیے اس کی دعوتی تصویر بے حد اہمیت رکھتی ہے۔ اسلام میں یہ بات آخری حد تک مطلوب ہے کہ اسلام کی دعوتی تصویر کو بگڑنے سے بچایا جائے۔ اسلام کی دعوتی تصویر کی حفاظت ہر دوسری چیز پر مقدم ہے حتیٰ کہ توہینِ رسول اور اہانتِ اسلام جیسے جذباتی مواقع پر بھی۔
اس معاملہ کی وضاحت کے لیے یہاں عبد اللہ بن ابی بن سلول کی مثال درج کی جاتی ہے۔ یہ شخص مدینہ کے قبیلہ خزرج کا سردار تھا۔ اس کی غیر معمولی صلاحیت کی بنا پر مدینہ کے لوگوں نے اس کو اپنا بادشاہ بنانا چاہا۔ اس کے لیے ایک تاج کی تیاری بھی شروع ہو گئی۔ عین اسی زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے۔ یہاں آتے ہی لوگوں نے آپ کو اپنا بڑا بنا لیا۔ عبد اللہ بن ابی کو اس سے بہت تکلیف پہنچی۔ حالات کے دباؤ کے تحت اس نے رسول اللہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ تاہم اس کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بغض پیدا ہو گیا۔ وہ اپنے دل کو تسکین دینے کے لیے ساری عمر آپ کی توہین و تحقیر کرتا رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز حضرت سعد بن عبادہ کی عیادت کے لیے نکلے۔ آپ
‹ Previous page Next page › Contents of July 1989 All issues