Al-Risala · July 1989 · page 21

مزید مثالیں

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۹، صفحہ ۲۱

مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کی گردن مار دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو، لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں (دعہ لا يتحدث الناس ان محمد ايقتل اصحابه) تفسیر ابن کثیر، الجزء الرابع ، صفحہ370)

مزید مثالیں

اس طرح کے اور بھی بہت سے واقعات سیرت کی کتابوں میں ملتے ہیں۔ مثلاً لیث بن سعد نے یحییٰ بن سعید سے، انھوں نے ابوالزبیر سے روایت کی ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ نے کہا کہ جعرانہ میں ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس وقت آپ لوگوں کو عطیات دے رہے تھے۔ آدمی نے دیکھ کر کہا کہ اے محمد، انصاف کیجئے (یا محمد اعدل) آپ نے فرمایا، تمہارا برا ہو، اگر میں انصاف نہ کروں تو اور کون انصاف کرے گا۔

حضرت عمر نے یہ گفتگو سن کر کہا کہ اے خدا کے رسول، مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کو قتل کر دوں، آپ نے فرمایا: اللہ کی پناہ کہ لوگ یہ کہیں کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہوں۔ (معاذ الله ان يتحدث الناس انى ا قتل اصحابی) سيرة ابن كثیر، المجلد الثالث ، صفحه ۷۸۰ غزوہ تبوک کی واپسی میں کچھ منافق قسم کے مسلمان آپ کے ساتھ تھے۔ یہ لوگ مخلص مسلمانوں سے الگ ہو کر بیٹھتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بے ہودہ باتیں کیا کرتے۔ حضرت حذیفہ کہتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت کچھ لوگوں کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا کہ جانتے ہو کہ یہ کون لوگ ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے بتایا کہ یہ لوگ بیٹھ کر آپس میں ہمارے خلاف باتیں کرتے ہیں۔ حضرت حذیفہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا آپ ہمیں اجازت دیں گے کہ ہم انھیں قتل کر دیں۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے ناپسند ہے کہ لوگ یہ چرچا کریں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں (اکره ان يتحدث الناس ان محمد ايقتل اصحابه) سيرة ابن كثیر، المجلد الرابع ، صفحه ۳۵ ۔

زیادہ قابل لحاظ

ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بہت سے ایسے لوگ تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کی اور آپ کے خلاف سب وشتم والے افعال

‹ Previous page Next page › Contents of July 1989 All issues

Printed page