Al-Risala · July 1989 · page 20

بد نامی سے بچت

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۹، صفحہ ۲۰

مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ صبح کو اندھیرے میں روانگی ہوئی۔ اس وقت ایک اتفاقی غلطی سے حضرت عائشہ، جو آپ کے ساتھ شریک سفر تھیں، قافلہ سے پیچھے رہ گئیں۔ سورج نکلنے کے بعد ایک صحابی صفوان بن معطل سلمیٰ اس جگہ سے گزرے۔ انہوں نے حضرت عائشہ کو اپنے اونٹ پر بٹھا لیا اور خود اس کی نکیل پکڑ کر آگے چلتے ہوئے نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہناچایا۔ اس واقعہ کو عبداللہ بن ابی نے خوب استعمال کیا۔ حضرت عائشہ کا اس طرح تنہا ایک نوجوان کے ساتھ آنا ایک ہنگامی سبب سے تھا۔ مگر عبداللہ بن ابی نے اس کو برے معنی پہن کر خوب تقریریں کیں۔ اس نے اس واقعہ کو پیغمبر کی کردار کشی کے لیے وسیع پیمانے پر استعمال کیا۔ یہاں تک کہ پورے مدینہ میں آپ کے خلاف شک وشبہ کی فضا پیدا ہوگئی۔

اس واقعہ کی تفصیلات سیرت اور تفسیر کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ قرآن مجید میں بتایا گیا ہے کہ جس شخص نے اس بہتان تراشی میں سب سے بڑا حصہ ادا کیا اس کے لیے عذاب عظیم ہے (النور (11) اس آیت میں جس شخص کے لیے سب سے بڑے عذاب کا ذکر ہے، اس سے مراد عبداللہ بن ابی ہے۔ مگر اس کو دنیا میں کوئی سزا انہیں دی گئی۔ اس کے معاملہ کو تمام تر آخرت کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ چنانچہ وہ مدینہ میں اپنی طبعی موت سے مرا۔

غزوہ بنی المصطلق (۵ھ) سے واپسی میں ایسا ہوا کہ پانی کے ایک چشمہ پر پانی لینے کے لیے مسلمانوں کا ہجوم ہو گیا۔ اس وقت ایک مہاجر اور ایک انصاری آپس میں لڑ گئے ۔ مہاجر نے کہا: یا لکمہا جرین انصاری نے کہا: یا للأنصار ۔ یہاں تک کہ دونوں گروہ ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مداخلت فرما کر اس کو ختم کیا۔

عبد اللہ بن ابی پہلے سے اس بات پر خوش نہ تھا کہ مکہ کے مسلمانوں کو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ بلا کر انہیں یہاں پناہ دی جائے۔ اس واقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے اپنے قبیلہ والوں کے سامنے اشتعال انگیز تقریر کی۔ اس میں اس نے کہا کہ اپنے کتے کو پال کر موٹا کرو کرو وہ تمہیں کو کاٹ کھائے ۔ خدا کی قسم، اگر ہم مدینہ واپس پہنچ گئے تو عزت والا ذلت والے کو وہاں سے نکال دے گا۔

عبداللہ بن ابی کی یہ باتیں سن کر صحابہ کو غصہ آگیا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ اے اللہ کے رسول،

‹ Previous page Next page › Contents of July 1989 All issues

Printed page